عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں صحت کے بڑے خطرات نئے وائرسوں کے بجائے پرانے وائرسوں کی زیادہ طاقتور شکلوں سے ہو سکتے ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سال 2026 کے آغاز پر عالمی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل قریب میں صحت کو درپیش خطرات ممکنہ طور پر نئے وائرسوں کے بجائے پرانے وائرسوں کی زیادہ طاقتور شکلوں سے ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، بین الاقوامی سفر میں اضافہ اور انسانوں و جانوروں کے درمیان بڑھتا ہوا رابطہ ان وائرسوں کے دوبارہ ابھرنے کی اہم وجوہات ہیں۔ متعدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا اب وبائی پھیلاؤ کے خطرے سے زیادہ دوچار ہے، جبکہ کئی ممالک میں بیماریوں کی نگرانی کے نظام کمزور ہیں۔
انفلوئنزا اے وائرس کی جینیاتی تبدیلی اور مختلف جانداروں کو متاثر کرنے کی غیر معمولی صلاحیت کے باعث یہ سب سے زیادہ تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ برڈ فلو اسٹرین کے انسانوں میں مؤثر منتقلی کے قابل ہونے کی صورت میں نئی عالمی وبا کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ایم پوکس وائرس، جو پہلے منکی پاکس کہلاتا تھا، اب عالمی سطح پر پھیل چکا ہے، اور انسان سے انسان میں منتقلی کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بغیر کسی سفری تاریخ کے نئے کیسز کی موجودگی 2026 میں نئی لہروں کا اشارہ ہے۔
اوروپوشی وائرس، جو مچھروں کے ذریعے پھیلتا ہے، بھی ماہرین کی تشویش کا باعث ہے۔ اس کی علامات بخار اور سر درد تک محدود ہوتی ہیں، تاہم موسمیاتی تبدیلی اس کو نئے علاقوں تک پہنچا سکتی ہے۔
عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ وباؤں سے نمٹنے کے لیے بروقت تیاری، مضبوط ویکسینیشن نظام، اور جدید انتباہی نگرانی انتہائی ضروری ہے۔ آج کی جڑی ہوئی دنیا میں بیماریوں سے بچاؤ ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری ہے۔















