منی سوٹا میں امیگریشن افسر کے ہاتھوں خاتون کے قتل کے بعد مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے، جس سے صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
منی سوٹا: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن افسر کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون کے حق میں مختلف شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے مینیاپولس، نیویارک اور لاس اینجلس سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں صورتحال کشیدہ ہوگئی اور ہوم لینڈ سکیورٹی نے مزید اہلکار مینیاپولس بھیج دیے۔
ایک رپورٹ کے مطابق، ایک خاتون ڈرائیور نے آئی سی ای اہلکاروں کو اپنی گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی، جس کے رد عمل میں ایک اہلکار نے خاتون کو گولی مار دی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ خاتون برین واش کی باعث اپنے ہی ہاتھوں پیدا سانحہ کا شکار ہوئی، اور آئس ایجنٹ جوناتھن راس کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔
مزید برآں، جے ڈی وینس نے کہا کہ جوناتھن راس غیرقانونی امیگرینٹ کو جون میں گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران زخمی ہوا تھا۔ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ حکام نے ریاست منی سوٹا میں چھاپے کے دوران خاتون کو سر پر گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔












