نیپال میں جین زی کی تحریک عبوری حکومت سے مایوس، بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
کٹھمنڈو: (رائیٹ ناوٴ نیوز) نیپال میں جین زی کی تحریک نے بدعنوانی کے خلاف عبوری حکومت کا تختہ الٹا، مگر اب وہی نوجوان نئی حکومت کی کارکردگی سے مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ بدعنوان سیاست دانوں کو سزا دی جائے اور ان کے اثاثوں کا احتساب کیا جائے۔
گزشتہ سال نیپال میں نوجوانوں کی تحریک کے نتیجے میں ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج سشیلا کارکی کو عبوری وزیراعظم بنایا گیا تھا، جنہوں نے مارچ 2026 میں انتخابات کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، نوجوان اب عبوری سیٹ اپ سے ناخوش ہیں کیونکہ عبوری حکومت بڑے سیاسی رہنماؤں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہی ہے۔
نوجوان مکیش آواستی، جنہیں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے کے بعد ایک ٹانگ سے محروم ہونا پڑا، نے بدعنوانی کے خاتمے کی تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی حکومت بدعنوانی کے خاتمے میں ناکام رہی ہے اور مظاہرین پر فائرنگ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق، حکومت کا اینٹی کرپشن ادارہ اب تک صرف ایک بڑا مقدمہ درج کر سکا ہے، جس میں کسی اہم سیاسی رہنما کو شامل نہیں کیا گیا۔ مظاہرین کے مطابق، جن سیاست دانوں پر بدعنوانی کے الزامات تھے، وہ آئندہ انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتوں کے دوران دوبارہ احتجاج شروع ہو گیا ہے اور مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس کے باہر بھی احتجاج کیا، جسے پولیس نے منتشر کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے جاں بحق اور زخمی افراد کے خاندانوں کے لئے کچھ نہیں کیا، اسی لیے وہ دوبارہ احتجاج پر مجبور ہیں۔











