ٹرمپ انتظامیہ نے نئی غذائی ہدایات میں سرخ گوشت اور مکمل چکنائی والے دودھ کی مصنوعات کی حوصلہ افزائی کی جبکہ شکر کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی گئی۔
نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کے روز امریکیوں کو ہدایت دی کہ وہ زیادہ پروسیس شدہ غذائیں اور شکر سے پرہیز کریں جبکہ سرخ گوشت اور مکمل چکنائی والے دودھ کی مصنوعات کی حوصلہ افزائی کی۔ یہ نئی حکومتی غذائی ہدایات پروٹین پر زیادہ زور دیتی ہیں اور گوشت، دودھ اور صحت مند چکنائیوں کو سبزیوں اور پھلوں کے ساتھ ایک ہی سطح پر رکھتی ہیں، جبکہ مکمل اناج کو سب سے نیچے رکھا گیا ہے۔
صحت کے سربراہ رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے وعدہ کیا کہ یہ نئی ہدایات امریکی غذائی عادات میں انقلاب لائیں گی اور ’میگا‘ تحریک کے تحت امریکہ کو صحت مند بنائیں گی۔ کینیڈی نے امریکی غذائی عادات اور فوڈ انڈسٹری کے خلاف پہلے ہی شدید تنقید کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک صحت کے ہنگامی حالت میں ہے جس نے بچوں سمیت دائمی بیماریوں کو جنم دیا ہے۔
نئی سفارشات پانچ سال بعد جاری کی گئی ہیں اور یہ شکر کے استعمال کی سختی سے حوصلہ شکنی کرتی ہیں، بچوں کو دس سال کی عمر تک اضافی میٹھے سے بچنے کی ہدایت دی گئی ہے، اور شکر والے مشروبات کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ ہدایات سفید بریڈ اور آٹے کی ٹارٹیلا جیسے ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کے استعمال کو کم کرنے کا بھی مشورہ دیتی ہیں۔ امریکیوں کو سبزیوں اور پھلوں جیسے مکمل غذاؤں کو ترجیح دینے کی ترغیب دی گئی ہے بجائے ان کے جو پیک شدہ یا تیار شدہ ہوں اور جن میں شکر اور نمک کا اضافہ ہو۔















