پاکستانی صنعتکاروں کی اقتصادی استحکام پر تشویش

صنعتکاروں نے پاکستان کی موجودہ اقتصادی استحکام پر سوالات اٹھائے اور بنیادی مسائل حل نہ ہونے پر خدشات ظاہر کئے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاکستانی صنعتکاروں کی اقتصادی استحکام پر تشویش

لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستانی صنعتکاروں نے ملک کی موجودہ اقتصادی استحکام پر سوالات اٹھائے ہیں، اور اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کو دور نہ کیا گیا تو یہ استحکام عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پی آئی اے ایف) کے چیئرمین سید محمود غزنوی نے کہا ہے کہ حالیہ مالیاتی امداد اور بہتر ذخائر کے باوجود ملک سود سے متعلقہ اخراجات کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔

غزنوی نے بتایا کہ ملک کے وفاقی بجٹ پر سود کی ادائیگیوں کا دباوٴ برقرار ہے، جو کہ رواں مالی سال میں وفاقی آمدنی کا 50 فیصد سے زائد ہے، جس کی وجہ سے ترقیاتی اخراجات کے لیے محدود وسائل دستیاب ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے بنیادی مسائل جیسے ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنا، نقصان دہ سرکاری اداروں کی اصلاحات، اور توانائی کے شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانا ضروری ہیں۔

صنعتکار وسیم ملک نے کہا کہ استحکام کا حصول صرف کفایت شعاری سے ممکن نہیں، بلکہ معیشت کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پالیسی ساز درمیانی مدت کی ترقی کی منصوبہ بندی پر توجہ نہیں دیتے، پاکستان کو بار بار عروج و زوال کے چکر کا سامنا رہے گا۔

دیگر متعلقہ خبریں