لاہور کے پہلے پمپنگ ہاؤس کو تاریخی یادگار کے طور پر محفوظ کر کے میوزیم میں تبدیل کیا جائے گا۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) لاہور کے پہلے پمپنگ ہاؤس کو، جو کئی دہائیوں تک اندرون شہر کو صاف پانی فراہم کرتا رہا، میوزیم میں تبدیل کرنے کا کام جاری ہے۔ یہ عمارت لاری اڈا کے قریب واقع ہے اور اس میں 1883 میں نصب کردہ بھاپ کا انجن موجود ہے، جو شہر کی پانی کی ضروریات پوری کرتا تھا۔
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے نائب ڈائریکٹر مبشر حسن کے مطابق، یہ پمپنگ اسٹیشن مخیر شخصیت بیلا رام نے اس وقت کے گورنر لاہور چارلس ایچیسن کے تعاون سے قائم کیا تھا۔ یہ اقدام اس وقت ہوا جب بیلا رام کے بچوں کو لاہور کے دورے کے دوران آلودہ پانی پینے کی وجہ سے بیماری کا سامنا کرنا پڑا۔
برطانوی دور میں، پانی کی فراہمی کا نظام دو مراحل پر مشتمل تھا۔ پہلے مرحلے میں بھاپ کا انجن دریائے راوی سے پانی کو ایک طاقتور ہائیڈروک میکانزم کے ذریعے اٹھاتا تھا اور دوسرے مرحلے میں پانی کو ایک بڑے ذخیرہ میں محفوظ کیا جاتا تھا، جہاں سے یہ گھروں کو فراہم کیا جاتا تھا۔
پمپنگ اسٹیشن اب فعال نہیں ہے، تاہم ‘پانی والا تالاب’ اب بھی موجود ہے اور اندرون شہر کے کچھ حصوں کو پانی فراہم کرتا ہے۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ کے بعد کوئلے کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہونے کے سبب پمپنگ اسٹیشن بند ہوگیا اور برقی ٹیوب ویلز نصب کیے گئے۔
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے تاریخی عمارت کی بحالی کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ مشینری کو صاف کرکے محفوظ کیا جائے گا اور میوزیم کے طور پر نمائش میں رکھا جائے گا۔ عمارت کے دوسرے حصے کو کیفے ٹیریا میں تبدیل کیا جائے گا۔ منصوبے کا مقصد برطانوی دور کی یادگار کو محفوظ کرنا اور میوزیم و کیفے ٹیریا سے حاصل ہونے والی آمدنی کو جگہ کی دیکھ بھال میں استعمال کرنا ہے۔











