اسلام آباد میں سبز رقبے میں اضافے کے سرکاری دعوؤں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ این ڈی وی آئی ڈیٹا، آزاد جنگلاتی اعداد و شمار اور درجہ حرارت کے رجحانات ایک مختلف اور تشویشناک تصویر پیش کر رہے ہیں، جس سے سی ڈی اے کی ماحولیاتی کارکردگی پر سنجیدہ خدشات جنم لے رہے ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)کیا اسلام آباد واقعی سرسبز ہو رہا ہے، یا پھر سبز رنگ کے چند سیٹلائٹ گراف سرکاری نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں؟ یہ سوال اس وقت شدت اختیار کر گیا ہے جب کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شہر میں 9000 ایکڑ سے زائد سبز رقبہ بڑھنے کا دعویٰ کیا، مگر زمینی حقائق، آزاد ڈیٹا اور درجہ حرارت کے رجحانات اس کے برعکس تصویر دکھا رہے ہیں۔
سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ جنوری 2023 سے دسمبر 2025 کے دوران اسلام آباد کے سبز رقبے میں نمایاں اضافہ ہوا، اور اس دعوے کی بنیاد این ڈی وی آئی ڈیٹا کو بنایا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق مارگلہ کی پہاڑیوں میں سبزہ بڑھنے سے شہری علاقوں میں ہونے والی درختوں کی کٹائی کا اثر زائل ہو گیا۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہی وہ مقام ہے جہاں سرکاری بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے۔

ماہرین واضح کرتے ہیں کہ این ڈی وی آئی دراصل صرف سبز رنگ یا سبزہ ناپنے کا ایک عددی پیمانہ ہے، نہ کہ درختوں کی اصل تعداد، ان کی عمر یا ان کے ماحولیاتی فوائد کا درست عکاس۔ گھاس، جھاڑیاں، موسمی پودے اور بارشوں کے بعد اگنے والی نباتات بھی سیٹلائٹ تصاویر میں سبز دکھائی دیتی ہیں، مگر یہ بالغ درختوں جیسی ٹھنڈک، سایہ، کاربن جذب کرنے کی صلاحیت اور شہری ماحول کو تحفظ فراہم نہیں کرتیں۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ شجرکاری مہمات کا حوالہ دے کر بالغ درختوں کی کٹائی کو نظر انداز کرنا ایک خطرناک سوچ ہے۔ ایک مکمل درخت کو شہری ماحول میں مؤثر کردار ادا کرنے میں کئی دہائیاں لگتی ہیں۔ اس دوران شہر شدید گرمی، فضائی آلودگی، سیلابی پانی کے دباؤ اور صحت سے متعلق مسائل کا سامنا کرتا ہے، جن کا بوجھ براہ راست شہری آبادی پر پڑتا ہے۔
این ڈی وی آئی کے سرکاری دعوؤں کے برعکس گلوبل فاریسٹ واچ کا ڈیٹا نہایت واضح اور تشویشناک ہے۔ ادارے کے مطابق 2021 سے 2024 کے درمیان اسلام آباد میں کم از کم 14 ہیکٹر درختوں کا احاطہ ختم ہوا، جو تقریباً 35 ایکڑ کے برابر ہے۔ یہ وہ عرصہ ہے جس میں شہر کے مختلف علاقوں میں سڑکوں، ہاؤسنگ منصوبوں اور تجارتی سرگرمیوں کی آڑ میں بالغ درختوں کی منظم کٹائی کی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ نقصان محض اعداد و شمار نہیں بلکہ شہری ماحولیاتی ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے، جس کے اثرات فوری اور دیرپا دونوں ہوتے ہیں۔

درختوں کے اس نقصان کے اثرات موسم میں بھی واضح نظر آ رہے ہیں۔ ویدروالے کی جانب سے فراہم کردہ درجہ حرارت کے طویل المدتی ڈیٹا کے مطابق 1991 سے 2020 کے اوسط کو بنیاد بنایا جائے تو 2000 کے بعد سے اسلام آباد میں زیادہ تر سال معمول سے زیادہ گرم رہے۔ حالیہ برسوں میں درجہ حرارت میں اضافہ 0.9 سے 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ ہوا، جبکہ 2021 اور 2023 شہر کے گرم ترین برسوں میں شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق شہری درخت قدرتی ایئر کنڈیشنر کا کردار ادا کرتے ہیں۔ جب بڑے اور گھنے درخت ختم ہوتے ہیں تو زمین کی سطح کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، چاہے سیٹلائٹ تصاویر میں سبزہ برقرار کیوں نہ دکھائی دے۔ اسی لیے ماہرین بڑھتی گرمی کو محض عالمی موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اسے مقامی سطح پر درختوں کے نقصان سے جوڑتے ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ سی ڈی اے نے اب تک یہ واضح کیوں نہیں کیا کہ سبز رقبہ ناپنے کے طریقہ کار میں موسمی تبدیلیوں، شہری علاقوں میں درختوں کی کٹائی اور مختلف اقسام کی نباتات میں فرق کو کس حد تک شامل کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق صرف این ڈی وی آئی ڈیٹا کو بنیاد بنا کر کامیابی کے دعوے کرنا ایک ایسا آسان راستہ ہے، جس کے ذریعے زمینی حقائق، انتظامی کمزوریاں اور شہری درختوں کی تباہی کو چھپایا جا سکتا ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ درختوں کے احاطے، درجہ حرارت کے رجحانات اور زمینی سروے کو یکجا کیے بغیر یہ کہنا ممکن نہیں کہ اسلام آباد واقعی سرسبز ہو رہا ہے۔ بصورت دیگر شہر خلا سے سبز اور زمین پر مزید گرم ہوتا چلا جائے گا۔
واضح رہے کہ اگر درجہ حرارت مسلسل بڑھتا رہے اور بالغ درخت ختم ہوتے جائیں تو سبزے کے دعوے محض کاغذی اور سیٹلائٹ بیانیہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ اسلام آباد کے لیے یہ معاملہ اب تشہیر کا نہیں بلکہ شہری مستقبل اور ماحولیاتی بقا کا سوال بن چکا ہے۔





