چینی سائنسدانوں نے نل اور تازہ پانی میں موجود پلاسٹک ذرات کو نکالنے کے لیے سادہ طریقہ دریافت کیا۔
بیجنگ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چینی سائنسدانوں نے نل اور تازہ پانی میں موجود نینو اور مائیکرو پلاسٹک ذرات کو نکالنے کا ایک سادہ اور مؤثر طریقہ دریافت کیا ہے۔ یہ ذرات انسانی صحت کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
چنگژو میڈیکل یونیورسٹی کے بایومیڈیکل انجینئر زیمِن یو اور ان کی ٹیم کے مطابق، نل کے سخت پانی کو اُبالنے سے اس کی سطح پر چونا نما کیلشیم کاربونیٹ کی تہہ بنتی ہے جو پلاسٹک کے ذرات کو جکڑ لیتی ہے۔ یہ طریقہ 80 سے 90 فیصد نانو پلاسٹک کو پانی سے علیحدہ کر سکتا ہے۔
ابالنے کے بعد چائے کی چھنی یا فلٹر کے ذریعے چونا نما تہہ میں جمی پلاسٹک کی ٹکڑیاں نکالنا ممکن ہے۔ تحقیق کے مطابق، یہ طریقہ تازہ پانی میں بھی کسی حد تک مؤثر ہے۔
ٹیکساس یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق، پینے کے پانی کے ذریعے یہ ذرات انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں اور فاضل پانی کی صفائی کے پلانٹس انہیں مکمل صاف کرنے میں ناکام ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اُبالا ہوا پانی پینے سے نینو پلاسٹک کے جسم میں داخلے کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تحقیقی ٹیم اس طریقے پر مزید مطالعہ کرنے کی خواہاں ہے تاکہ انسانی صحت پر اس کے اثرات کو مزید جانچا جا سکے۔















