پاکستان میں استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی

پاکستان میں استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس کا مقصد مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاکستان میں استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وفاقی حکومت نے 2026 سے 2033 تک کے لیے نئی موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی کے تحت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار نے پیر کے روز اس پالیسی کا اعلان کیا، جو انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) اور مقامی موبائل فون مینوفیکچررز کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، اس کا مقصد عالمی برانڈز کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا ہے۔

پالیسی کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کی زیر صدارت اعلیٰ اجلاس میں پیش کیا گیا، جہاں مقامی اسمبلنگ کے فوائد پر بھی بحث کی گئی۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ پالیسی کا مقصد مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔

پالیسی میں درآمدی موبائل فونز پر ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کی گئی ہے اور کارکردگی اہداف سے منسلک جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔ اسمارٹ فونز کے لیے ایس کے ڈی کٹ میں 40 جبکہ فیچر فونز کے لیے 15 پرزہ جات لازمی ہوں گے۔

پالیسی میں انڈر انوائسنگ کی روک تھام کے لیے سی بی یو اور مقامی طور پر تیار کردہ فونز کو سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ای ویسٹ مینجمنٹ کے لیے محتاط حکمت عملی اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں