امریکہ کے 92 سالہ جج الوِن ہیلر اسٹائن نے وینزویلا کے صدر مادورو کے مقدمے کی سماعت کی، جس نے عمر رسیدہ ججز کے طویل عرصے تک عدلیہ میں رہنے کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔
نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکہ میں 92 سالہ ڈسٹرکٹ جج الوِن ہیلر اسٹائن نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے مقدمے کی سماعت کی، جس نے امریکہ میں عمر رسیدہ ججز کے طویل عرصے تک عدلیہ میں رہنے کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ جج ہیلر اسٹائن وفاقی عدلیہ میں تقریباً تین دہائیوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور نائن الیون حملوں، سوڈان میں نسل کشی کے دعوے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق کیسز کی سماعت کر چکے ہیں۔
امریکی آئین کے تحت وفاقی ججز کو تاحیات تقرری حاصل ہوتی ہے، جس کا مقصد عدلیہ کو سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھنا ہے۔ امریکہ میں ججز کے لیے کوئی لازمی ریٹائرمنٹ کی عمر مقرر نہیں ہے، اور وہ اس وقت تک خدمات انجام دے سکتے ہیں جب تک وہ خود کو اہل سمجھیں یا مواخذے کے ذریعے ہٹائے نہ جائیں۔
ایسے ججز جو مکمل ریٹائرمنٹ کے بجائے کام کا بوجھ کم کرنا چاہتے ہیں، 65 سال کی عمر کے بعد سینئر اسٹیٹس اختیار کر سکتے ہیں، جس کے تحت وہ مکمل تنخواہ کے ساتھ محدود مقدمات کی سماعت کرتے ہیں۔













