آڈیٹر جنرل نے ایف آئی اے کو لیسکو میں اووربلنگ تحقیقات تکنیکی تصدیق کے بغیر شروع نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ہدایت کی ہے کہ وہ لیسکو میں اووربلنگ کی تحقیقات تکنیکی تصدیق کے بغیر شروع نہ کرے۔ آڈٹ پیرا کے مطابق ایف آئی اے کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور صوبائی دفترِ معائنہ سے رابطہ کر کے قانونی فریم ورک کے تحت کارروائی کرنی چاہیے۔
آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایف آئی اے نے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں اووربلنگ پر نیپرا کے طریقہ کار کے برعکس انکوائریاں شروع کیں۔ اووربلنگ کی شکایات کی جانچ اور صارفین کی شکایات کے ازالے کا اختیار نیپرا اور صوبائی دفاترِ معائنہ کو حاصل ہے۔
آڈٹ کے دوران ایف آئی آر نمبر 79/2024 کا جائزہ لیا گیا، جس میں 59.791 ملین یونٹس کی زائد بلنگ کا الزام عائد تھا۔ تکنیکی کمیٹی نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار میٹرنگ اینڈ ٹیسٹنگ کی تصدیق کے بغیر تھے اور لیسکو کو حقیقی مالی نقصان نہیں ہوا کیونکہ زیادہ تر بلنگ ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق اووربلنگ کی شکایات نیپرا ایکٹ 1997 اور کنزیومر سروس مینوئل 2021 کے تحت صوبائی دفترِ معائنہ یا نیپرا کے کنزیومر افیئرز ڈویژن میں دائر کی جانی چاہئیں۔ ایف آئی اے نے کئی ایف آئی آرز درج کر کے انہیں ایک ہی انکوائری میں ضم کر دیا، جس سے شواہد کمزور اور کارروائی غیر مؤثر رہی۔
آڈٹ نے سفارش کی ہے کہ اووربلنگ کے معاملات میں ایف آئی اے تکنیکی توثیق کے بغیر فوجداری کارروائی سے گریز کرے اور نیپرا کے طے شدہ قانونی طریقہ کار کے مطابق ادارہ جاتی رابطہ یقینی بنایا جائے تاکہ صارفین کے اعتماد اور ریگولیٹری عمل کو نقصان نہ پہنچے۔














