افغانستان میں طالبان سونے کی کانوں سے کروڑوں ڈالر کما رہے ہیں

طالبان نے افغانستان کی سونے کی کانوں پر قبضہ کرکے ماہانہ کروڑوں ڈالر کما رہے ہیں، جس سے مقامی آبادی متاثر ہو رہی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
افغانستان میں طالبان سونے کی کانوں سے کروڑوں ڈالر کما رہے ہیں

کابل: (رائیٹ ناوٴ نیوز) افغانستان میں طالبان حکومت پر قدرتی وسائل کی منظم لوٹ مار کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ طالبان نے شمالی اور شمال مشرقی صوبوں میں سونے کی کانوں پر زبردستی قبضے شروع کر دیے ہیں، جس سے مقامی آبادی متاثر ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں، تخار اور فراہ سمیت کئی صوبوں میں جیسے ہی سونے کی کان کی اطلاع ملتی ہے، طالبان مقامی مالکان کو بے دخل کر کے قابض ہو جاتے ہیں۔ مقامی شہریوں کو سونا نکالنے کے پرمٹ جاری نہیں کیے جا رہے جبکہ طالبان کے حمایت یافتہ افراد کو کانوں پر کام کی اجازت دی جاتی ہے۔

تخار میں کانوں پر قبضے کے خلاف مقامی افراد نے احتجاج کیا، جس کے دوران طالبان کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی۔

اندازوں کے مطابق سونے کی کانوں سے طالبان کو ماہانہ 25 ملین ڈالر سے زائد آمدن حاصل ہو رہی ہے، جو طالبان کمانڈرز کی ذاتی جیبوں میں جا رہی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قدرتی وسائل کی لوٹ مار نے افغانستان کو معاشی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔

افغان مبصرین کے مطابق اس کشمکش سے طاقتور گروہوں کے درمیان تنازع بڑھ رہا ہے، جو افغانستان اور خطے کے لیے خطرناک ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں