ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی مصنوعی ذہانت انسانوں کی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے، اور بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ معاشرے اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
لندن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) انسانوں کی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے جبکہ اس کے محفوظ استعمال کے لیے درکار سائنسی فہم اور نظام اتنی تیزی سے تیار نہیں ہو رہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال معاشرے، معیشت اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی ترقی اب محض سائنسی کامیابی نہیں رہی بلکہ یہ انسانی معاشرے کے مستقبل سے جڑا ایک سنجیدہ معاملہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کی رفتار کے ساتھ انسان شاید اس کے خطرات کو سمجھنے اور قابو میں رکھنے کے لیے مطلوبہ وقت حاصل نہ کر سکے۔
جدید اے آئی نظام اب ایسے کام انجام دینے لگے ہیں جو پہلے صرف ماہر انسان ہی کر سکتے تھے۔ تحقیق، تجزیہ، منصوبہ بندی اور تکنیکی فیصلے جیسے شعبوں میں مشینیں نہ صرف تیز ہو رہی ہیں بلکہ کئی معاملات میں زیادہ مؤثر اور کم خرچ ثابت ہو رہی ہیں۔
حکومتیں اور ادارے اکثر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ جدید نظام خودبخود درست فیصلے کریں گے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی مکمل جانچ اور اعتماد کے لیے درکار سائنسی بنیاد ابھی کمزور ہے۔
برطانیہ کی تحقیقی ایجنسی ایڈوانسڈ ریسرچ اینڈ انوینشن ایجنسی کے اے آئی سیفٹی ماہر ڈیوڈ ڈیلرمپل کے مطابق اے آئی کی صلاحیتیں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور حکومتیں اس کی حفاظت کے حوالے سے پیچھے رہتی جا رہی ہیں۔















