نیپرا نے چھتوں پر سولر صارفین کے نرخوں میں کمی کی تجویز دی ہے، جس سے رہائشی صارفین متاثر ہوں گے، جبکہ سولر آئی پی پیز اور صنعتی صارفین استثنیٰ رکھیں گے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے پروزیومر ریگولیشنز 2025 میں ترامیم کی تجویز دی ہے، جس کے تحت چھتوں پر شمسی توانائی پیدا کرنے والے صارفین کو ادا کی جانے والی قیمت کو 25.98 روپے فی یونٹ سے کم کر کے 9.67 روپے فی یونٹ تک لایا جا رہا ہے۔ یہ اقدام وزیر اعظم کی گرین انرجی کوفروغ دینے کے حکم نامے کے باوجود سامنے آیا ہے۔
نئے ریگولیشنز میں سولر آئی پی پیز کو استثنیٰ دیا گیا ہے، جبکہ صنعتی صارفین بھی متاثر نہیں ہوں گے۔ اصل متاثرین رہائشی چھتوں پر سولر لگانے والے صارفین ہیں، جنہیں اوسطاً 26.73 روپے فی یونٹ کی بجائے کم نرخ ملیں گے۔
یہ اقدام سولر سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے، جبکہ بیٹری اسٹوریج کے نرخ کم ہونے سے صارفین مکمل آف گرڈ حل اختیار کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، مجوزہ ترامیم میں نیشنل ایوریج انرجی پرچیز پرائس (NAEP) کی وضاحت شامل نہیں، جس سے صارفین پر اضافی بوجھ منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ ترامیم موجودہ نیپرا لائسنس رکھنے والوں کے حقوق کے خلاف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم کی مداخلت کے باوجود ایسی غیر مقبول ریگولیشن کیوں لائی جا رہی ہے، جبکہ اس کے فوائد کم ہیں۔















