وال سٹریٹ جرنل نے بھارت میں اقلیتوں پر مظالم پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بھارت میں مذہب کی جبری تبدیلی کے قوانین کے تحت مسیحیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دہلی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کے حوالے سے امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل نے مودی حکومت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ بھارت کی 12 ریاستوں میں ایسے قوانین نافذ کیے گئے ہیں جو مذہب کی جبری تبدیلی کو جرم قرار دیتے ہیں، مگر ان قوانین کے تحت مسیحیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کرسمس کے موقع پر اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں مسیحیوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگائے گئے اور چرچ میں خلل ڈالنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ چھتیس گڑھ میں کرسمس کی سجاوٹ کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہ واقعات ریاستی حکومتوں کے زیر انتظام علاقوں میں پیش آئے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں، جیسا کہ سٹیزنز فار جسٹس اینڈ پیس، نے کرسمس کو اقلیتوں کے خلاف اکثریتی بالادستی کے اظہار کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ یونائیٹڈ کرسچن فورم کے مطابق 2014 سے 2025 کے درمیان مسیحیوں پر حملوں کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر خاص تشویش کا حامل ملک قرار دینے کی سفارش کی ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے کرسمس پر محبت و ہم آہنگی کا پیغام دیا گیا مگر ناقدین نے اسے نمائشی قرار دیا۔
بھارت کا سیکولر نظام مودی دور میں مزید کمزور ہو چکا ہے۔ ناقدین کے مطابق ریاستی قیادت کی جانب سے تشدد کی خاموشی ایک پیغام بن جاتی ہے، جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔












