اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل سے غزہ میں امدادی این جی اوز پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے غزہ میں امدادی کام کرنے والی این جی اوز پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں انسانی ہمدردی کی خدمات کے لیے ناگزیر ہیں اور اس معطلی سے جنگ بندی کی معمولی پیش رفت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو درپیش انسانی بحران کو مزید سنگین بنانے کا خدشہ ہے اگر ان تنظیموں پر پابندی برقرار رہی۔ اسرائیل نے 37 غیر ملکی امدادی تنظیموں کی غزہ تک رسائی اس وقت معطل کر دی جب انہوں نے اپنے فلسطینی ملازمین کی فہرستیں فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز سمیت متاثرہ تنظیموں کو یکم مارچ تک اپنا کام بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں کا موقف ہے کہ یہ مطالبات بین الاقوامی انسانی قانون کے منافی ہیں اور ان کی خودمختاری کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ اسرائیل نے ان اداروں پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔
اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کی جنگ کے بعد سے غزہ میں کمزور جنگ بندی برقرار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی 80 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور 15 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔












