پاکستان نے 2025 میں پانی کے بحران کو قومی سلامتی کا معاملہ تسلیم کیا

پاکستان نے 2025 میں پانی کے بحران کو قومی سلامتی کا معاملہ تسلیم کیا، جب کہ غیر متوقع موسمیاتی صورتحال اور ہائیڈرو پولیٹیکل کشیدگی نے ملک کو متاثر کیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاکستان نے 2025 میں پانی کے بحران کو قومی سلامتی کا معاملہ تسلیم کیا

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان نے 2025 میں پانی کے بحران کو قومی سلامتی کا معاملہ تسلیم کیا، جب کہ غیر متوقع موسمیاتی صورتحال اور ہائیڈرو پولیٹیکل کشیدگی نے ملک کو متاثر کیا۔

پاکستان نے 2025 کا آغاز خشک موسم سرما کے ساتھ کیا، جس کے بعد شدید ہیٹ ویو اور مون سون کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پانی کی تقسیم اور بین الصوبائی تنازعات نے سندھ کو زراعت، پینے کے پانی کی قلت، اور دیگر مسائل کے باعث شدید متاثر کیا۔

اندرونی طور پر بین الصوبائی پانی کی تقسیم پر عدم اعتماد احتجاج کی شکل اختیار کر گیا، جب کہ سندھ نے زراعت اور ڈیلٹا کی بقا کے لیے پانی کی کمی کو سنگین چیلنج قرار دیا۔

بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدی پانی کی سیاست نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور افغانستان کی کنڑ دریا پر ڈیم کی تعمیر نے نئی مشکلات پیدا کیں۔

ملک بھر میں مون سون کی طوفانی بارشوں نے سیلاب کا خطرہ بڑھا دیا، جس سے 1,000 افراد ہلاک اور 6 ملین بے گھر ہوئے۔ سیلاب نے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا اور معیشت پر شدید اثر ڈالا۔

پانی کے انتظام میں ناکامیوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا پانی کا بحران اب صرف قلت کا مسئلہ نہیں بلکہ غیر محفوظ اور غیر شفاف نظام کا نتیجہ ہے، جسے فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں