ہائبرڈ گاڑیوں کی درجہ بندی پر تنازعہ، اربوں کا ممکنہ نقصان

آٹو سیکٹر میں REEVs کی BEVs کے طور پر درجہ بندی کی لابنگ پر تنازعہ پیدا ہو گیا۔ ماہرین نے اس اقدام سے قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ہائبرڈ گاڑیوں کی درجہ بندی پر تنازعہ، اربوں کا ممکنہ نقصان

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) آٹو سیکٹر میں چینی اسمبلر اور مقامی امپورٹر کے درمیان رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (REEVs) کو بیٹری الیکٹرک وہیکلز (BEVs) کے طور پر دوبارہ درجہ بندی کرنے کے لئے لابنگ جاری ہے۔

صنعتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام داخلی احتراق انجنوں پر انحصار کرنے والی گاڑیوں کو زیرو ایمیشنز ٹیکس فوائد دلانے کی کوشش ہے، جو مارکیٹ مقابلے کو متاثر کر سکتا ہے اور قومی خزانے سے اربوں روپے کا نقصان کر سکتا ہے۔

REEVs میں برقی موٹرز وہیلز کو چلاتی ہیں، لیکن ان کے ساتھ ایک اندرونی پیٹرول انجن بھی ہوتا ہے جو بیٹری کو چارج کرنے کے لئے جنریٹر کا کام کرتا ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ گاڑیاں چونکہ ایندھن استعمال کرتی ہیں اور روایتی انجن کی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں حقیقی زیرو ایمیشنز BEVs کے ساتھ نہیں رکھا جا سکتا۔

آٹو سیکٹر کے ذرائع نے نوٹ کیا کہ عالمی کسٹمز معیارات، بشمول ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن کی وضاحتی نوٹسز، واضح اور متفق ہیں کہ کسی بھی گاڑی میں داخلی احتراق انجن ہو تو اسے ہائبرڈ قرار دیا جاتا ہے نہ کہ خالص الیکٹرک۔

پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) نے متعلقہ اتھارٹی کو رسمی طور پر اس مسئلے کو اٹھایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پلاگ اِن ہائبرڈز یا REEVs کو الیکٹرک گاڑیاں قرار دینا قومی خزانے کے لئے بڑے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں