سال 2025 عدلیہ کی آزادی کے لیے مشکل ترین ثابت ہوا

2025 میں عدلیہ پر انتظامیہ کا غلبہ رہا، آئینی ترامیم نے عدلیہ کی آزادی کو متاثر کیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
سال 2025 عدلیہ کی آزادی کے لیے مشکل ترین ثابت ہوا

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) 2025 میں عدلیہ کی آزادی کو شدید دھچکا لگا جب 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی منظوری دی گئی۔ ان ترامیم کے تحت حکومت نے عدلیہ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔

سال بھر انتظامیہ نے اعلیٰ عدلیہ پر غلبہ برقرار رکھا۔ 26 ویں آئینی ترمیم نے پارلیمانی کمیٹی کو اختیار دیا کہ وہ تین سینئر ججوں میں سے کسی کو چیف جسٹس آف پاکستان منتخب کر سکے، مگر حکومت نے تین سینئر ججوں کو نظر انداز کرتے ہوئے جسٹس امین الدین خان کو آئینی بنچوں کا سربراہ مقرر کر دیا۔

آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کی توثیق کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دیا۔ اس سے حکومت کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ملی۔ حکومت نے ہائی کورٹس کے ججوں کے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلے کا عمل بھی شروع کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں نے ایجنسیوں کی مداخلت کے خلاف اعتراض اٹھایا اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا، مگر آئینی بنچ نے تبادلوں کی توثیق کر دی۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ نہ ہو سکا۔

نومبر میں 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے اختیارات ختم کر کے انہیں فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کو منتقل کر دیا گیا جس کے ججوں کا تقرر انتظامیہ کرتی ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے دو ججوں اور لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے استعفیٰ دے دیا، جبکہ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے کوئی مزاحمت سامنے نہیں آئی۔

دیگر متعلقہ خبریں