یمن میں سعودی قیادت میں حملے کے بعد یو اے ای نے اپنی فوجی دستے واپس بلانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ریاض اور ابو ظہبی کے درمیان اختلافات میں شدت آئی ہے۔
ابو ظہبی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ وہ یمن سے اپنی باقی ماندہ فوجی دستے واپس بلا رہا ہے۔ یہ فیصلہ سعودی قیادت میں اتحادی افواج کے مکلا پر فضائی حملے کے بعد ہوا۔
سعودی عرب نے اس حملے میں امارات سے منسلک ہتھیاروں کی کھیپ کو نشانہ بنایا جو یو اے ای کے حمایت یافتہ عناصر کو فراہم کی جا رہی تھی۔ اس کارروائی کو ریاض اور ابو ظہبی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات میں شدت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یمن میں سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اماراتی افواج کو ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا اور یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا۔
امارات نے فضائی حملے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نشانہ بنائی گئی کھیپ میں ہتھیار نہیں تھے اور وہ اماراتی افواج کے لیے تھی۔ انہوں نے مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے باہمی رابطے پر زور دیا۔
خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی ہے اور ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان اختلافات اوپیک کے اندر تیل کی پیداوار پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔














