کمپٹیشن کمیشن نے 2025 کی انشورنس، گولڈ، فرٹیلائزر، اسٹیل اور ایل این جی رپورٹس جاری کی ہیں، جن میں مختلف شعبوں کی پسماندگی اور مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کمپٹیشن کمیشن نے سال 2025 کے لیے انشورنس، گولڈ، فرٹیلائزر، اسٹیل اور ایل این جی شعبوں پر رپورٹس جاری کی ہیں۔ ان رپورٹس میں پاکستان کے انشورنس سیکٹر کی پسماندگی کو عالمی اوسط کے مقابلے میں نمایاں کیا گیا ہے، جہاں انشورنس رسائی صرف 0.87 فیصد ہے۔
کمپٹیشن کمیشن نے پہلی بار گولڈ مارکیٹ پر تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں غیر رسمی تجارت کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں گولڈ سیکٹر کے لیے علیحدہ ریگولیٹر کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
پیسٹی سائیڈ رپورٹ کے مطابق زرعی زہروں کے شعبے میں جعلی ادویات اور کمزور انفورسمنٹ بڑے مسائل ہیں۔ ایل این جی رپورٹ میں سرکاری اداروں کی اجارہ داری اور نجی شعبے کی محدود شمولیت کو مارکیٹ میں فروغ کی راہ میں رکاوٹ بتایا گیا ہے۔
اسٹیل سیکٹر رپورٹ میں کارٹلائزیشن اور محدود سرمایہ کاری کو مارکیٹ کی کارکردگی متاثر کرنے والے عوامل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ فرٹیلائزر رپورٹ میں پیداوار میں کمی، گیس کی تقسیم اور ریٹیل سطح پر مقابلے کی کمی کو مسائل کے طور پر سامنے لایا گیا ہے۔















