اسرائیل نے 2025 میں فلسطین، ایران، لبنان، شام، یمن اور قطر پر سب سے زیادہ فوجی حملے کیے، جن میں غزہ میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی آزاد ڈیٹا مانیٹرنگ ادارے ایکلڈ کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں اسرائیل نے دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ فوجی حملے کیے۔ یہ حملے فلسطین، ایران، لبنان، شام، یمن اور قطر تک محدود نہیں رہے بلکہ غزہ میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے یکم جنوری سے 5 دسمبر 2025 تک کم از کم 10,631 حملے کیے، جو ایک سال میں سب سے زیادہ غیر ملکی فوجی کارروائیاں ہیں۔ اسرائیل نے فضائی اور ڈرون حملے، گولہ باری، میزائل حملے اور دیگر مسلح کارروائیاں کیں۔
سب سے زیادہ حملے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کیے گئے، جہاں 8,332 مرتبہ کارروائیاں ہوئیں۔ غزہ میں 7,024 حملوں کے نتیجے میں 25,000 سے زائد فلسطینی شہید اور 62,000 زخمی ہوئے۔
ایران میں جون میں بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے جس میں جوہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ قطر میں بھی اسرائیل نے ستمبر میں حملہ کیا، جب کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف 48 حملے کیے گئے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ یہ اعداد و شمار مصدقہ رپورٹس پر مبنی ہیں اور تنازعاتی علاقوں میں رپورٹنگ کی کمی کے باعث اصل تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔














