غریب ممالک کی مشکلات میں 2025 کا سال بدترین رہا

غریب ممالک کے لیے 2025 غیر معمولی طور پر مشکل سال رہا، مالی امداد میں کمی اور جنگوں کی طوالت نے مسائل میں اضافہ کیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
غریب ممالک کی مشکلات میں 2025 کا سال بدترین رہا

واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) 2025 غریب ممالک کے لیے انتہائی مشکل سال ثابت ہوا۔ عالمی امدادی ایجنسیوں کے مطابق امیر ممالک نے غریب ممالک کو مالی امداد بند کر دی ہے جبکہ جنگوں کی طوالت اور جانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کوئی سزا نہیں ملی اور مستحکم ممالک نے اندرون ملک مسائل پر توجہ دی۔ انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے موجودہ صورتحال کو ‘نیا عالمی بد نظمی’ قرار دیا ہے۔

پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اوسلو کے مطابق 2024 میں 36 ممالک میں 61 جنگیں جاری تھیں، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ 2025 میں ان تنازعات کی شدت میں مزید اضافہ ہوا۔ جنگوں کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں اور کھیتوں سے بے دخل ہو گئے، جس کے نتیجے میں غذائی قلت اور قحط کی صورتحال پیدا ہوئی۔

کچن کے مطابق سوڈان میں دو سال کی خانہ جنگی کے نتیجے میں قحط اور بڑے پیمانے پر بے گھری کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے 2025 سوڈان ہیومینیٹیرین نیڈز اینڈ ریسپانس پلان کے مطابق سوڈان میں انسانی امداد کے لیے 4.2 بلین ڈالر کی ضرورت ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں نے بھی کئی ممالک میں زرعی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔ فیمین ارلی واچ سسٹم نیٹ ورک کے تجزیے کے مطابق 2026 تک کینیا میں 3.5 ملین اور صومالیہ میں 5 ملین لوگ انسانی امداد کے محتاج ہوں گے۔

امریکا سمیت کئی ممالک نے غریب ممالک کے لیے امدادی بجٹ میں کٹوتی کی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی امدادی ایجنسیاں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں