فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بلوچستان میں آزادیٔ صحافت کو ریاستی اور غیر ریاستی دھمکیوں سے شدید خطرہ ہے۔
کوئٹہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے دباؤ اور دھمکیوں کے باعث آزادیٔ صحافت کی جگہ تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ آزاد اور غیر جانبدار رپورٹنگ کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، قومی ٹی وی چینلز اور اخبارات نے کوئٹہ میں اپنی موجودگی کو کم کر دیا ہے، جس سے صوبائی دارالحکومت سے باہر خبری کوریج محدود یا ختم ہو چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں اہم عوامی مسائل میڈیا کی توجہ سے محروم رہتے ہیں۔
صحافیوں کو علیحدگی پسند، شدت پسند گروہوں اور سیاسی قبائلی عمائدین کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں بلوچستان میں 40 صحافی قتل ہوئے، جن میں سے 30 ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔
رپورٹ میں صنفی عدم مساوات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، جہاں خواتین صحافیوں کی تعداد نہایت کم ہے اور انہیں نقل و حرکت، فیلڈ حالات، نیوز روم امتیاز، کم اجرت اور ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے کہا کہ بلوچستان میں صحافت عملاً گم ہو چکی ہے، جہاں اپنی حفاظت کے لیے جبری سنسرشپ اختیار کی جاتی ہے۔















