وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدات میں 38 فیصد کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کاروباری برادری سے مشاورت کی ہدایت کی ہے۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدات میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کاروباری برادری سے مشاورت کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بتایا کہ پاکستان کی برآمدات میں 36 سے 38 فیصد کمی ہوئی ہے۔
رانا تنویر حسین نے بتایا کہ پیداوار کی بلند لاگت، مہنگی توانائی اور پیچیدہ ٹیکس نظام برآمد کنندگان کے لئے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کاروباری برادری کے قریب ہیں اور زمینی حقائق کو پالیسی سازی میں شامل کرنے کے لئے کاروباری نمائندوں کی سربراہی میں ورکنگ گروپس تشکیل دیے ہیں۔
لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمان سیگول نے خبردار کیا کہ اگر برآمدات میں کمی جاری رہی تو روپے کی قدر مستحکم رکھنا ممکن نہیں ہوگا اور اس سے افراط زر اور صنعتی اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ جولائی سے نومبر کے دوران خوراک کی برآمدات 1.95 ارب ڈالر رہیں جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 3.15 ارب ڈالر تھیں۔
سیگول نے بتایا کہ زرعی برآمدات میں کمی کی وجوہات میں کم فی ایکڑ پیداوار، تحقیق و ترقی میں کم سرمایہ کاری، اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور غیر مستقل پالیسی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گندم، چاول اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار گزشتہ دو سالوں میں کم ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت ٹیکسٹائل پر مبنی ہے، جس کی 60 فیصد برآمدات ٹیکسٹائل سے منسلک ہیں، لیکن کپاس کی پیداوار اور معیار میں کمی سے ویلیو ایڈیشن متاثر ہو رہا ہے۔















