آف لوڈنگ، ڈی پورٹیشن اور ترک وطن، ایف آئی اے نے قائمہ کمیٹی کو حقائق بتا دیے

پاکستان میں 2025 کے دوران ہنر مند افراد کی بیرون ملک ہجرت میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ مالیاتی دباؤ اور ڈیجیٹل رکاوٹیں ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
آف لوڈنگ، ڈی پورٹیشن اور ترک وطن، ایف آئی اے نے قائمہ کمیٹی کو حقائق بتا دیے

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں انکشاف ہوا ہے کہ 2025 کے دوران پاکستانی ہوائی اڈوں پر امیگریشن عمل کے تحت 66,154 مسافروں کو مختلف وجوہات پر آف لوڈ کیا گیا۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق تقریباً 51 ہزار مسافروں کو دستاویزات کی مشکوک نوعیت کے باعث روکا گیا، جبکہ حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام منظم بھیک مانگنے اور غیر قانونی نیٹ ورکس کے خلاف کیا گیا۔ اسی تناظر میں بتایا گیا کہ 2025 کے دوران سعودی عرب سے 24 ہزار پاکستانی شہریوں کو بھیک مانگنے کے الزامات پر ڈی پورٹ کیا گیا۔

ایف آئی اے کی بریفنگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک سے بیرونِ ملک جانے کا رجحان غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔ بڑھتی آف لوڈنگ پر عوامی شکایات کے بعد 20 دسمبر 2025 کو وزیر اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ امیگریشن عمل کے دوران جائز اور مکمل دستاویزات رکھنے والے مسافروں کو غیر ضروری مشکلات سے بچایا جائے، تاکہ سکیورٹی اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔

2025 کے اختتامی ہفتوں میں پاکستان کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر رونق اور رش ایک گہرے معاشی اور سماجی رجحان کی علامت بن چکا ہے۔ مالی سختی، مہنگائی اور ڈیجیٹل رکاوٹوں کے اس سال میں پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں سے انسانی صلاحیتوں کی برآمد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہ رجحان اب صرف خلیجی ممالک میں محنت کشوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور طبقہ بھی بڑی تعداد میں ملک چھوڑ رہا ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 727,381 پاکستانیوں نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹریشن کرائی، جبکہ 2025 کے نومبر تک 687,246 افراد ملک سے باہر جا چکے تھے۔ گزشتہ دو برسوں میں مجموعی طور پر یہ تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، تاہم ماہرین کے نزدیک تشویش کی بات صرف تعداد نہیں بلکہ اس ہجرت کی نوعیت ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 ماہ کے دوران تقریباً 5,000 ڈاکٹر، 11,000 انجینئر اور 13,000 اکاؤنٹنٹس بیرونِ ملک منتقل ہوئے۔ صحت کا شعبہ اس رجحان سے شدید متاثر ہوا، جہاں نرسوں کی بیرونِ ملک منتقلی میں 2011 سے 2024 کے دوران 2,144 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 2025 میں بھی جاری رہا۔ جرمنی اور رومانیہ جیسے ممالک نے تیز رفتار رہائشی اسکیموں کے ذریعے اس ہنر مند افرادی قوت کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

ڈیجیٹل شعبے میں 2025 ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ سرکاری اعداد کے مطابق اعلیٰ درجے کے آئی ٹی ماہرین کی جسمانی ہجرت 2024 کے مقابلے میں 30 فیصد سے زائد کم ہوئی، تاہم ماہرین اسے “غیر مرئی ہجرت” قرار دے رہے ہیں۔ انٹرنیٹ فائر وال، بار بار بندشیں اور ڈیجیٹل عدم استحکام ایسے عوامل ہیں جنہوں نے فری لانسرز، سافٹ ویئر ماہرین اور ڈیٹا سائنس دانوں کو بیرونِ ملک ڈیجیٹل نومیڈ حبز کا رخ کرنے پر مجبور کیا۔

ڈیجیٹل عدم استحکام کے معاشی اثرات بھی نمایاں رہے۔ ٹاپ10 وی پی این ریسرچ کے مطابق 2024 میں پاکستان کو انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز کے باعث 1.62 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جس سے لاکھوں فری لانسرز متاثر ہوئے۔ 2025 کے آخر تک متعدد اعلیٰ ٹیکنالوجی ماہرین پرتگال، ایسٹونیا اور متحدہ عرب امارات منتقل ہو گئے، جہاں ان کی معاشی سرگرمیوں کا فائدہ مقامی معیشتوں کو پہنچا۔

دوسری جانب ترسیلاتِ زر میں اضافہ معیشت کے لیے وقتی سہارا بن گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق نومبر 2025 میں ترسیلات 3.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آمدن اس فکری اور تکنیکی خلا کو پُر نہیں کر سکتی جو ہنر مند افرادی قوت کے انخلا سے پیدا ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ 2026 میں داخل ہوتے ہوئے پاکستان کو ایک ایسے مرحلے کا سامنا ہے جہاں ایک طرف امیگریشن سختی، آف لوڈنگ اور سرحدی کنٹرول کے مسائل ہیں، تو دوسری جانب ہنر مند افرادی قوت کا مسلسل اخراج۔ ماہرین کے مطابق اصل چیلنج اب ہجرت کو روکنا نہیں بلکہ ایسا معاشی اور ڈیجیٹل ماحول پیدا کرنا ہے جو اہل افراد کو ملک میں رہ کر مستقبل بنانے پر قائل کر سکے۔

دیگر متعلقہ خبریں