سرمایہ کاری 13 فیصد پر آگئی، صنعت 25 سال پیچھے—روزگار کہاں سے آئے گا؟

پاکستان میں غربت 45 فیصد اور بے روزگاری 22 فیصد تک پہنچ چکی ہے، معیشت بحران کا شکار ہے۔ حل کیا ہے؟

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
سرمایہ کاری 13 فیصد پر آگئی، صنعت 25 سال پیچھے—روزگار کہاں سے آئے گا؟

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں غربت کی شرح تقریباً 45 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بے روزگاری 22 فیصد ہو گئی ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں ملکی معیشت کی اوسط شرحِ نمو صرف 1.7 فیصد رہی، جبکہ آبادی میں سالانہ اضافہ 2.5 فیصد ہے۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے ان اعداد و شمار کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال معاشی کے ساتھ ساتھ سماجی بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے۔  سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے یہ گفتگو 92 نیوز کے پروگرام ’’مقابل‘‘ میں کی جس کی میزبان ربیعہ احسن اور عامر متین بطور تجزیہ کار موجود تھے۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق غربت، بے روزگاری اور کمزور معاشی نمو ایک ساتھ ایسی سطح پر پہنچ چکے ہیں جو صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی بحران کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔

انہوں نے  بتایا کہ  ’جب معیشت کی رفتار آبادی میں اضافے سے کم ہو جائے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ فی کس آمدنی نہیں بڑھ رہی اور عام آدمی کی معاشی حالت بہتر نہیں ہو پا رہی۔‘

ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 35 برسوں سے پاکستان کی معیشت کا مطالعہ کر رہے ہیں، مگر ‘غربت، بے روزگاری اور سست نمو کا ایسا امتزاج اس شدت کے ساتھ پہلے کبھی سامنے نہیں آیا۔‘

سرمایہ کاری، صنعت اور روزگار کا سوال

گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے سینئر صحافی عامر متین نے اس نکتے پر توجہ دلائی کہ معیشت کا بنیادی مسئلہ صرف شرحِ نمو نہیں بلکہ سرمایہ کاری کا مسلسل سکڑنا ہے۔

عامر متین کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کا تناسب کم ہو کر جی ڈی پی کے تقریباً 13 فیصد تک رہ گیا ہے، جبکہ ماضی میں یہ شرح 20 فیصد کے قریب ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب نجی سرمایہ کار پیچھے ہٹ چکا ہو، غیر ملکی سرمایہ کاری محدود ہو اور صنعتی سرگرمی سست پڑ جائے تو روزگار کے مواقع کیسے پیدا ہوں گے۔

اس پر ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ سرمایہ کاری میں کمی کے براہِ راست اثرات صنعت پر پڑے ہیں۔

ان کے مطابق’گزشتہ سال صنعتی شعبے کی کارکردگی 25 سال پہلے کی سطح سے بھی نیچے رہی۔ جب سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو نہ صنعت چلے گی اور نہ روزگار بڑھے گا۔‘

 

تجارت، برآمدات اور بڑھتا خسارہ

معاشی بحث کے دوران عامر متین نے حالیہ تجارتی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں تجارتی خسارہ نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ ان کے مطابق ایکسپورٹس میں کمی جبکہ امپورٹس میں اضافے نے معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

عامر متین نے سوال کیا کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو زرِ مبادلہ کے ذخائر، روپے کی قدر اور مہنگائی پر اس کے اثرات کہاں جا کر رکیں گے۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا نے جواب میں کہا کہ درآمدات کو فزیکل کنٹرولز کے ذریعے روکنا وقتی حل ہے، جس کے منفی اثرات پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’آٹوموٹیو جیسے شعبوں میں 30 فیصد تک گراوٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ طریقہ معیشت کو مزید سست کر دیتا ہے۔ پائیدار حل صرف ایکسپورٹ لیڈ گروتھ ہے۔‘

روپے کی قدر  میں مصنوعی استحکام کا برآمدات پر اثر

ایکسچینج ریٹ کے حوالے سے عامر متین نے نشاندہی کی کہ ماضی میں روپے کی قدر میں بڑی کمی کے باوجود برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا اور قرضوں کا بوجھ کم نہیں ہو سکا۔

اس پر ڈاکٹر حفیظ پاشا نے واضح کیا کہ وہ شدید ڈی ویلیوایشن کے حامی نہیں ہیں۔

ان  کا کہنا تھا کہ ’میں 40 یا 50 فیصد قدر میں کمی کی بات نہیں کر رہا۔ اسٹیٹ بینک خود کہہ رہا ہے کہ روپیہ کم از کم 5 فیصد اوور ویلیوڈ ہے۔ اگر محدود اور مارکیٹ بیسڈ درستگی کی جائے تو ایکسپورٹر کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔‘

زراعت اور کسان کی حالت زار

زرعی شعبے پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ گندم کی حکومتی خریداری پالیسی کے خاتمے سے قیمتوں میں تقریباً 30 فیصد کمی آئی، جس کے نتیجے میں کسانوں کی آمدنی میں لگ بھگ 1000 ارب روپے کی کمی ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ ’ہم زراعت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہتے ہیں، مگر پالیسی فیصلے اس کے برعکس جا رہے ہیں۔ کسان کی آمدنی متاثر ہوگی تو اس کے اثرات پوری معیشت پر پڑیں گے۔‘

عامر متین نے بھی اس نکتے پر کہا کہ فصلوں میں مجموعی کمی اور بڑھتی لاگت نے دیہی معیشت کو دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس کے اثرات شہروں تک منتقل ہو رہے ہیں۔

چارٹر آف اکانومی کی ضرورت

گفتگو کے اختتام پر ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ پاکستان کو کنسینسس بیسڈ چارٹر آف اکانومی کی فوری ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ’برآمدات کو فروغ، ٹیکس بیس کی توسیع اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کے بغیر ہم اسی دائرے میں گھومتے رہیں گے۔ سیاسی عدم استحکام کے ماحول میں یہ فیصلے مزید مشکل ہو جاتے ہیں۔‘

بنگلہ دیش، سیاسی تبدیلی اور علاقائی اشارے

پروگرام کےابتداء میں  عامر متین نے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں ہونے والی سیاسی تبدیلیاں جنوبی ایشیا کے مجموعی منظرنامے پر اثرانداز ہو رہی ہیں اور پاکستان کے لیے ان تبدیلیوں کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔

سینئر صحافی عامر متین نے بنگلہ دیش کی حالیہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شیخ حسینہ واجد کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد وہاں سیاسی فضا میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں بلکہ اس کے علاقائی مضمرات بھی ہیں۔

عامر متین کے مطابق طارق الرحمن کی طویل جلاوطنی کے بعد واپسی اور ان کا عوامی استقبال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فروری میں انتخابات ہوتے ہیں تو طارق الرحمن کے وزیر اعظم بننے کے امکانات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش میں ہونے والی سیاسی پیش رفت بھارت کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ نئی قیادت کی صورت میں پالیسی ترجیحات اور علاقائی تعلقات میں تبدیلی آ سکتی ہے، جس کے اثرات پورے جنوبی ایشیا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی کشمکش، بند گلی اور مذاکرات کا بحران

پاکستان کی اندرونی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے عامر متین نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال ایک بند گلی میں داخل ہو چکی ہے، جہاں نہ مکمل مفاہمت دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی کھلی تصادم کی واضح سمت سامنے آ رہی ہے۔ ان کے مطابق سیاست مسلسل کنفرنٹیشن کے دائرے میں گھوم رہی ہے۔

عامر متین نے کہا کہ مذاکرات کی بات ضرور ہو رہی ہے، مگر عملی طور پر ایسا کوئی فریم ورک سامنے نہیں آ رہا جو سیاسی بحران کو کم کر سکے۔ ان کے مطابق موجودہ سیٹ اپ میں مفاہمت کی گنجائش محدود ہے، کیونکہ طاقت اور بقا کا توازن اسی کشیدگی سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی عدم استحکام کا براہِ راست اثر معیشت اور گورننس پر پڑ رہا ہے، اور جب تک سیاسی سمت واضح نہیں ہوتی، بڑے معاشی فیصلے مؤخر ہوتے رہیں گے۔ ان کے بقول، یہی وہ نکتہ ہے جہاں سیاست اور معیشت ایک دوسرے کو جکڑ لیتی ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں