خلیجی ممالک 2030ء تک 15 لاکھ محنت کشوں کی ضرورت کے باعث روزگار کے وسیع مواقع فراہم کریں گے۔
ابوظہبی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) خلیجی ممالک میں 2030ء تک 15 لاکھ سے زائد محنت کشوں کی ضرورت ہوگی۔ عالمی رپورٹس کے مطابق یہ خطہ روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرے گا، جس سے بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے نئی راہیں کھلیں گی۔
متحدہ عرب امارات میں لیبر فورس میں تقریباً 12 فیصد اضافے کا امکان ہے، جہاں سیاحت، رئیل اسٹیٹ، آئی ٹی، قابلِ تجدید توانائی، صحت اور تعمیرات کے شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔
سعودی عرب میں وژن 2030ء کے تحت بڑے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، جن میں نیوم سٹی اور ریڈ سی پروجیکٹ شامل ہیں، جن کے لیے لاکھوں نئے کارکن درکار ہوں گے۔
خلیجی ممالک غیر ملکی محنت کشوں کے لیے پالیسیوں میں نرمی لا رہے ہیں تاکہ عالمی سطح سے باصلاحیت افرادی قوت کو راغب کیا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ایشیائی ممالک کے محنت کشوں کے لیے سنہری موقع ہے۔















