امریکا میں وزن کم کرنے کی نئی ادویات کی منظوری سے فوڈ انڈسٹری میں تبدیلیوں کا امکان ہے، کیونکہ صارفین کی غذائی ترجیحات بدل رہی ہیں۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکا میں حال ہی میں وزن کم کرنے والی نئی ادویات کی منظوری کے بعد فوڈ انڈسٹری میں آئندہ برس تبدیلیوں کا امکان ہے۔ ان ادویات کی بڑھتی مقبولیت صارفین کی غذائی ترجیحات کو بدل رہی ہے۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے نوو نورڈسک کی جی ایل پی ون گولی ویگووی کی منظوری دی ہے، جس کے بعد کئی خوراک تیار کرنے والی کمپنیوں کے شیئرز میں کمی دیکھی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، صارفین زیادہ پروٹین والی اور صحت سے متعلق دعووں والی غذاؤں کی طرف مائل ہو رہے ہیں، جس کے باعث فوڈ کمپنیاں اپنی مصنوعات کی لیبلنگ اور پروٹین کی مقدار میں تبدیلیاں کر رہی ہیں۔
تحقیق کے مطابق، ان ادویات کے استعمال سے گروسری اخراجات میں اوسطاً 5.3 فیصد اور فاسٹ فوڈ ریستورانوں پر تقریباً 8 فیصد کمی ہوئی ہے، اگرچہ دوا چھوڑنے کے بعد یہ اثرات کم ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، وزن کم کرنے کی گولیوں کی دستیابی اور کم قیمت کے باعث ان کا استعمال طویل مدت تک جاری رہنے کا امکان ہے، جو خوراک کی صنعت میں طویل المدتی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔















