سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے جمہوریت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے بغیر آئین اور ریاست کا وجود ممکن نہیں۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جمہوریت کے بغیر آئین نہیں ہو سکتا اور آئین کے بغیر کوئی ریاست دنیا میں قائم نہیں رہ سکتی۔
انہوں نے بدھ کو ایک کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شوریٰ کا نظام بھی اسلامی تعلیمات سے نکلتا ہے اور جمہوریت شوریٰ کی بنیاد پر ہے۔ انہوں نے پارلیمانی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز جمہوریت کو بنیادی ڈھانچے کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی حقوق کی حفاظت کی ذمہ داری ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے ججز پر ہے، جنہوں نے آئین کی بالادستی کو برقرار رکھنے کا حلف اٹھایا ہے۔
ثاقب نثار نے کہا کہ قوانین انسان کی پیدائش کے ساتھ وجود میں آئے اور ان کے نفاذ کے لئے کچھ شرائط ہوتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی واقعی موجود ہے یا نہیں، اور خبردار کیا کہ اس کے بغیر سب کچھ بے معنی ہو جاتا ہے۔
انہوں نے آزادی اظہار کو قانون کی حکمرانی کے لئے ضروری قرار دیا اور کہا کہ انسان کو برائی کو اس کے نام سے پکارنا چاہیے یا کم از کم دل میں برائی سمجھنا چاہیے۔













