پی آئی اے کی نجکاری میں عارف حبیب کنسورشیم کو 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے میں فروخت ہوئے، جس میں روٹس اور جہاز شامل ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ قومی ایئرلائن کے کون سے اثاثے فروخت کیے گئے اور حکومت کو اس سودے کے تحت کتنی رقم حاصل ہوگی۔ نیلامی کے بعد سب سے زیادہ سوال پی آئی اے کے اندرون و بیرون ملک موجود قیمتی اثاثوں سے متعلق سامنے آیا ہے۔
پی آئی اے پاکستان سمیت بیرون ملک مختلف جائیدادوں اور اثاثہ جات کی مالک رہی ہے، جن میں جہازوں کا بیڑا، بین الاقوامی روٹس، دنیا کے بڑے ہوائی اڈوں پر لینڈنگ اور ٹیک آف کے حقوق، ہوٹلز، دفاتر، سرمایہ کاری اور دیگر املاک شامل ہیں۔ تاہم ماضی میں کم بولیوں کے بعد مئی 2024 میں حکومت نے پی آئی اے کو دو حصوں، پی آئی اے کارپوریشن لمیٹڈ اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ، میں تقسیم کر دیا تھا۔
اسلام آباد میں منگل کو ہونے والی تقریب میں معروف سرمایہ کاروں پر مشتمل عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے میں خریدے۔ اس عمل میں لکی سیمنٹ کنسورشیم اور ایئر بلیو کنسورشیم بھی شامل تھے۔ نجکاری کے بعد پی آئی اے کا نام اور لوگو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کو انتظامی اور مالی اصلاحات کی اجازت دی گئی ہے۔
نجکاری کے بعد اثاثوں سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیرِ نجکاری محمد علی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ نیلامی میں پی آئی اے کی جائیدادیں شامل نہیں ہیں۔ ان کے مطابق صرف وہ اثاثے فروخت کیے گئے ہیں جو ایئرلائن کے آپریشن کے لیے ضروری ہیں، جیسے جہاز، روٹس اور لینڈنگ رائٹس، جبکہ رئیل اسٹیٹ، ہوٹلز، سرمایہ کاری اور قرضے حکومت کی زیرِ ملکیت ہولڈنگ کمپنی کے پاس رہیں گے۔
پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے پاس قومی ایئرلائن کی قیمتی جائیدادیں موجود ہیں، جن میں نیویارک کا 1025 کمروں پر مشتمل روزویلٹ ہوٹل، پیرس کا اسکرائب ہوٹل، پریسیشن انجینئرنگ کمپلیکس، پی آئی اے انویسٹمنٹ لمیٹڈ، ملک بھر میں دفاتر اور پلاٹس شامل ہیں۔ اسی کمپنی کے ذمے پی آئی اے کے تقریباً 650 ارب روپے کے قرضے اور واجبات بھی ہیں۔
اس کے برعکس پی آئی اے کارپوریشن لمیٹڈ میں وہ تمام اثاثے شامل ہیں جو پروازیں چلانے کے لیے ضروری ہیں۔ نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کے بیڑے میں اس وقت 34 جہاز ہیں، جن میں سے 18 آپریشنل اور 16 گراؤنڈڈ ہیں۔ اس کمپنی کے پاس ملکی و بین الاقوامی پروازوں کے حقوق، لندن ہیتھرو، مانچسٹر، نیویارک اور دبئی جیسے مصروف ہوائی اڈوں پر لینڈنگ رائٹس، اور تقریباً 6700 ملازمین کا آپریشنل ڈھانچہ شامل ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نجکاری کے لیے جہازوں، روٹس اور پانچ جائیدادوں کو پیش کیا گیا، جن میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے دفاتر شامل ہیں۔ تاہم روزویلٹ ہوٹل، پیرس کا اسکرائب ہوٹل، دیگر رئیل اسٹیٹ، سرمایہ کاری اور قرضے اس معاہدے کا حصہ نہیں بنے۔ واضح رہے کہ حکومت اب ہولڈنگ کمپنی کی جائیدادوں کو لیز پر دینے یا فروخت کر کے حاصل ہونے والی آمدن سے پی آئی اے کے قرضے اتارنے کا ارادہ رکھتی ہے۔















