قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے پی آئی اے کی نجکاری کو تاریخی اقدام قرار دیا اور پرائیویٹ ایئر لائنز کے موجودہ مسائل پر غور کیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس چیرمین فتح اللہ خان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پی آئی اے کی نجکاری پر غور کیا گیا۔ کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کو تاریخی اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس کے بعد ایئر لائن ترقی کرے گی۔
اجلاس میں پرائیویٹ ایئر لائنز کے موجودہ حالات پر بھی گفتگو ہوئی۔ جناح ایئرلائن کی پروازوں کے شیڈول میں تبدیلیوں پر بھی بحث ہوئی جبکہ فلائی جناح کے نمائندے نے بتایا کہ وہ ماہانہ 22 انٹرنیشنل اور 72 اندرونی پروازیں چلا رہے ہیں۔
سیکرٹری دفاع نے غیر ملکی ایئر لائنز کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی مسافروں کو غیر مہذب سمجھا جاتا ہے۔ شرمیلا فاروقی نے فلائی جناح کے کھانے کے معیار پر تنقید کی اور کمیٹی اراکین نے فلائی جناح کو مینیو میں تبدیلی کا مشورہ دیا۔
اجلاس میں کمیٹی ممبران کی قلیل تعداد میں شرکت پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے اور اگلے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر اور سیکرٹری فنانس کو بلانے کی تجویز دی گئی۔
پلاننگ کمیشن نے وزارت دفاع کے منصوبوں کے لیے فنڈز دینے سے انکار کیا جس پر سیکرٹری دفاع نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے وزارت دفاع کے منصوبوں کو قومی سلامتی کی اہمیت دینے کی سفارش کی۔













