کسی آوارہ جانور نے مجھے کاٹنے کی کوشش کی تو ٹیکے اسی کو لگیں گے، پلوشہ خان۔
سینیٹر پلوشہ خان نے سینیٹ کمیٹی میں تلخ کلامی کے معاملے پر وفاقی وزیر کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرا دی، اور واقعے کو ایوان کے تقدس پر حملہ قرار دیا۔
کسی آوارہ جانورنےمجھےکاٹنے کی کوشش کی تو ٹیکےاس آوارہ جانور کو لگیں گے۔پلوشہ خان
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ اگر کسی آوارہ جانور نے انہیں کاٹنے کی کوشش کی تو ٹیکے اس آوارہ جانور کو لگیں گے۔ یہ بات انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں ہونے والی تلخ کلامی کے معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
پلوشہ خان نے سحر کامران کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہوں نے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران وہ ایک عوامی نمائندے کے طور پر سوال کر رہی تھیں، مگر اس کے جواب میں تلخ کلامی کی گئی۔
سینیٹر پلوشہ خان نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی کابینہ کے وزیروں کو سنبھالیں۔ ان کے مطابق سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے واقعے کو ہر فورم پر اٹھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سوال ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے بننے والی سڑک کے بارے میں تھا، جس میں یہ پوچھا گیا کہ آیا یہ سڑک عوام کے لیے ہے یا کسی مخصوص ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزرا ایوان کو جوابدہ ہیں اور مسئلہ سوال کرنے کا نہیں بلکہ جواب دینے کا ہے۔
پلوشہ خان کے مطابق تحریک استحقاق اب سینیٹ میں زیر غور آئے گی اور اس پر فیصلہ صدر مملکت آصف علی زرداری کریں گے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ بات “شٹ اپ” اور “یو شٹ اپ” تک پہنچ گئی تھی، جس کے بعد کمیٹی کے چیئرمین پرویز رشید کی مداخلت پر وفاقی وزیر نے مشروط معافی مانگی تھی۔













