پی آئی اے کی نجکاری مکمل، مگر اقتصادی و سیاسی زاویے پیچیدہ۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری بالآخر ایک ایسے مرحلے پر مکمل ہو گئی ہے جس کا انتظار برسوں سے کیا جا رہا تھا۔ مگر یہ فیصلہ جتنا سادہ دکھائی دیتا ہے، اتنا ہی پیچیدہ ہے۔ یہ صرف ایک خسارے والے ادارے کی فروخت نہیں، بلکہ ایک ایسے ریاستی ماڈل کا عکس ہے جس میں ناکامیوں کا بوجھ ایک کھاتے سے دوسرے کھاتے میں منتقل کیا جاتا رہا ہے۔
92 نیوز کے پروگرام ’’مقابل‘‘ میں اسی نجکاری کو مختلف زاویوں سے پرکھا گیا۔ پروگرام کی میزبانی ربیعہ احسن نے کی، جبکہ گفتگو کی سمت اور فکری وزن سینئر تجزیہ کار عامر متین نے متعین کیا۔ مہمانوں میں خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم اور سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز چوہدری شامل تھے۔ گفتگو میں اعداد و شمار بھی تھے، تاریخی حوالہ جات بھی، اور وہ سوالات بھی جن سے عام طور پر سرکاری بیانیہ کتراتا ہے۔
ایک فیصلہ، مگر دو زاویے
گفتگو کے آغاز میں ہی عامر متین نے واضح کر دیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کو محض ’’اچھی‘‘ یا ’’بری‘‘ کی سادہ بحث میں نہیں سمویا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس فیصلے کو کم از کم دو الگ زاویوں سے دیکھنا ضروری ہے۔ ایک زاویہ وہ ہے جسے حکومت نمایاں کر رہی ہے، اور دوسرا وہ جس پر کم بات کی جا رہی ہے۔
عامر متین نے کہا کہ پی آئی اے برسوں سے ایک ایسا ادارہ بن چکی تھی جو قومی خزانے پر مستقل بوجھ تھا۔ ان کے مطابق یہ ادارہ ایک وائٹ ایلیفینٹ(سفید ہاتھی) تھی، جس کا خسارہ ہر سال ریاست کو اٹھانا پڑ رہا تھا۔ یہی وہ زاویہ ہے جس کے تحت نجکاری کو ایک ناگزیر قدم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، گویا ریاست نے ایک مسلسل خون بہاتے زخم سے نجات حاصل کر لی ہو۔
لیکن اسی کے ساتھ عامر متین نے دوسرا زاویہ بھی سامنے رکھا۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ نجکاری ہونی چاہیے تھی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ نجکاری کن شرائط پر کی گئی اور اس کے نتائج کس کے لیے کیا ہوں گے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سرکاری بیانیہ اور تجزیاتی سوالات آمنے سامنے آتے ہیں۔
135 ارب کی نجکاری کی ہیڈلائن اور اندرونی حقیقت
نجکاری کے اعلان کے ساتھ ہی 135 ارب روپے کا ہندسہ سرخیوں میں نمایاں ہو گیا۔ یہ رقم بظاہر ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کی گئی، مگر پروگرام میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا کہ اس ہندسے کے پیچھے چھپی حقیقت کو سمجھے بغیر تصویر مکمل نہیں ہوتی۔
عامر متین نے وضاحت کی کہ پی آئی اے کے 75 فیصد حصص فروخت کیے گئے ہیں، مگر حقیقی طور پر حکومت کو نقد رقم کی صورت میں محض 7.5 فیصد رقم ملے گی، جو تقریباً 10 ارب روپے بنتی ہے۔ اس رقم کی ادائیگی بھی ایک ساتھ نہیں بلکہ مرحلہ وار ہو گی۔ ان کے مطابق یہی وہ نکتہ ہے جو عوامی تاثر اور عملی حقیقت کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے۔
یہاں عامر متین کی گفتگو کا سیاق یہ تھا کہ بڑی رقم کا اعلان سیاسی سطح پر اطمینان پیدا کر دیتا ہے، مگر جب معاہدے کی تفصیلات سامنے آتی ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ریاست کو فوری طور پر کتنا فائدہ حاصل ہو رہا ہے اور کتنا فائدہ مستقبل کے وعدوں سے مشروط ہے۔
سرمایہ کاری یا صرف وعدہ؟
نجکاری کے معاہدے کے مطابق بولی کی 92.5 فیصد رقم آئندہ پانچ برس میں پی آئی اے میں سرمایہ کاری کی صورت میں لگائی جائے گی۔ بظاہر یہ شق اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ ادارہ فروخت ہونے کے باوجود مضبوط ہو گا۔ مگر ’’مقابل‘‘ کی گفتگو میں یہی شق سب سے زیادہ سوالات کا باعث بنی۔
عامر متین نے پوچھا کہ اس سرمایہ کاری کا میکنزم کیا ہو گا، کون اس کی نگرانی کرے گا، اور اگر یہ سرمایہ کاری وعدے کے مطابق نہ ہوئی تو اس کا احتساب کیسے ہو گا۔ ان کے سوالات دراصل ماضی کے تجربات کی روشنی میں تھے، جہاں نجکاری کے بعد سرمایہ کاری کے وعدے اکثر فائلوں تک محدود رہے۔
یہاں گفتگو کا سیاق واضح طور پر یہ تھا کہ سرمایہ کاری بذاتِ خود مسئلہ نہیں، مسئلہ اس کی شفافیت اور نگرانی ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس پر عامر متین نے توجہ دلائی۔
’’جمعہ جنج نال‘‘ — طاقت کے توازن کا استعارہ
گفتگو کے دوران عامر متین نے پنجابی محاورے ’’جمعہ جنج نال‘‘ کا حوالہ دیا۔ یہ جملہ کسی فرد یا ادارے پر الزام کے طور پر نہیں بلکہ ایک سماجی اور سیاسی استعارے کے طور پر استعمال ہوا۔
پنجابی ثقافت میں ’’جمعہ جنج نال‘‘ اس کردار کو کہا جاتا ہے جو بظاہر دلہا نہیں ہوتا، مگر ہر بارات میں کسی نہ کسی طرح شامل رہتا ہے۔ عامر متین نے اس محاورے کو استعمال کرتے ہوئے یہ نکتہ اٹھایا کہ پاکستان کی بڑی نجکاریوں میں بعض طاقتور ادارے یا گروپس براہِ راست خریدار نہ بھی ہوں، تب بھی وہ کسی اسٹریٹجک پارٹنر یا پسِ پردہ شراکت دار کی حیثیت سے منظرنامے میں آ جاتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ عامر متین نے خود اس بات کو حتمی دعوے کے طور پر پیش نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس شمولیت کی نوعیت، طریقۂ کار اور حدود ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے یہ محاورہ ایک طنزیہ مشاہدہ تھا، نہ کہ کوئی قانونی یا سیاسی الزام۔
حکومت نے کیا بیچا، اور کیا اپنے پاس رکھا؟
یہاں سے گفتگو کا رخ خالص معاشی تجزیے کی طرف مڑا، جہاں مزمل اسلم نے اہم نکات اٹھائے۔ ان کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کو اگر صرف فروخت کے طور پر دیکھا جائے تو تصویر ادھوری رہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے دراصل ایئر لائن فروخت نہیں کی بلکہ اپنے مستقبل کے نقصانات کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔
مزمل اسلم کے مطابق پی آئی اے کا سالانہ خسارہ دہائیوں سے 70 سے 80 ارب روپے کے درمیان رہا، جو ہر سال قومی خزانے سے پورا کیا جا رہا تھا۔ اگر نجکاری کے بعد یہ خسارہ رک جاتا ہے تو یہ حکومت کے لیے ایک مالی ریلیف ہو سکتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کو اس سودے میں فوری طور پر محض 10 ارب روپے ملیں گے، باقی رقم پی آئی اے کے اندر ہی لگے گی۔
یہاں سیاق یہ تھا کہ حکومت کو قلیل مدتی نقد فائدہ کم اور طویل مدتی خسارے سے نجات زیادہ حاصل ہوئی ہے۔
قرض، واجبات اور ٹیکس کا راستہ
گفتگو کا ایک نہایت اہم پہلو وہ تھا جہاں مزمل اسلم نے پی آئی اے کے قرضوں کا معاملہ کھولا۔ ان کے مطابق حکومت نے تقریباً 800 ارب روپے کے قرضے اور واجبات اپنے ذمے لے لیے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرض اب پی آئی اے کا نہیں بلکہ ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے۔
یہاں مزمل اسلم نے کسی خفیہ منصوبے یا سازش کی بات نہیں کی، بلکہ خالص معاشی اصول بیان کیے۔ ان کے مطابق جب حکومت اس قدر بڑا بوجھ اپنے سر لیتی ہے تو اسے کہیں نہ کہیں سے پورا کرنا پڑتا ہے۔ عملی طور پر یہ بوجھ براہِ راست کسی ایک ٹیکس کے نام سے نہیں بلکہ بالواسطہ طریقوں سے عوام تک منتقل ہوتا ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں پیٹرولیم لیوی، بجلی اور گیس کے سرچارج، سیلز ٹیکس اور مختلف فیسیں اہم ہو جاتی ہیں۔ مزمل اسلم کے مطابق ماضی میں بھی حکومتیں سرکلر ڈیٹ اور دیگر نقصانات اسی طرح عوام پر منتقل کرتی رہی ہیں۔ اس تناظر میں پی آئی اے کے قرض کا معاملہ کوئی الگ مثال نہیں۔
گورننس اور شفافیت کا سوال، دانیال عزیز کا موقف
سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز چوہدری نے گفتگو میں اس فیصلے کو گورننس کے تناظر میں دیکھا۔ ان کے مطابق نجکاری میں اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ حکومت کے اہداف کیا ہیں اور وہ انہیں کس حد تک واضح کرتی ہے۔
دانیال عزیز کے مطابق اس سودے میں حکومت نے بیچنے اور ادارے کو چلتا دیکھنے کے دو مختلف مقاصد کو ایک ساتھ حاصل کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں شرائط پیچیدہ ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت بڑی رعایتیں دیتی ہے اور سرمایہ کاری کی تفصیلات واضح نہیں ہوتیں تو عوامی سطح پر شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری ہے۔
ان کی گفتگو کا سیاق یہ تھا کہ نجکاری کے بعد اصل امتحان اس بات کا ہو گا کہ وعدہ شدہ سرمایہ کاری کس معیار اور شفافیت کے ساتھ کی جاتی ہے۔
عام مسافر کہاں کھڑا ہے؟
پروگرام میں بار بار یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اس نجکاری کا فائدہ عام مسافر کو کیا ملے گا۔ عامر متین نے اندرونِ ملک فضائی کرایوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ڈومیسٹک ایئر لائن کا یک طرفہ کرایہ 60 سے 70 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔
یہ مثال دراصل اس بات کی نشاندہی تھی کہ نجکاری بذاتِ خود مسافروں کے لیے ریلیف کی ضمانت نہیں۔ اگر مسابقت نہ بڑھی اور ریگولیٹری نظام مضبوط نہ ہوا تو عام صارف کو فائدہ پہنچنے کا امکان کم رہے گا۔
مزمل اسلم نے بھی اسی خدشے کا اظہار کیا کہ اگر مارکیٹ میں حقیقی مقابلہ نہ آیا تو مالی بوجھ آخرکار ٹیکس دہندگان اور صارفین ہی برداشت کریں گے۔
پی آئی اے کی نجکاری کاغذی طور پر مکمل ہو چکی ہے، مگر ’’مقابل‘‘ میں ہونے والی گفتگو نے واضح کر دیا کہ اس فیصلے کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ عامر متین کے مطابق یہ فیصلہ اس بات پر منحصر ہے کہ اسے کس زاویے سے دیکھا جاتا ہے اور اس کے نتائج کس حد تک عملی صورت اختیار کرتے ہیں۔
مزمل اسلم نے گفتگو کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ نجکاری کو مکمل کامیابی یا ناکامی قرار دینا قبل از وقت ہو گا، کیونکہ اصل امتحان شفافیت، نگرانی اور وعدہ شدہ سرمایہ کاری کے نفاذ کا ہے۔
آخر میں یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ کیا پی آئی اے کی نجکاری واقعی ریاست کو ایک مستقل بوجھ سے نجات دلائے گی، یا یہ بوجھ صرف ایک کھاتے سے دوسرے کھاتے میں منتقل ہو گا۔ اس سوال کا جواب وقت دے گا، مگر ’’مقابل‘‘ کی گفتگو نے یہ ضرور واضح کر دیا کہ اس فیصلے کو سادہ نعروں میں سمیٹنا ممکن نہیں۔
بشکریہ (92 نیوز)















