پروفیسر عامر صوفی نے ہائی ٹیک خدمات کو پاکستانی معیشت کی ترقی کے لئے اہم قرار دیا۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان کو اپنی اقتصادی حکمت عملی پر نظرثانی کرتے ہوئے ہائی ٹیک خدمات جیسے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پروفیشنل سائنسی خدمات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ روایتی صنعتوں سے ہٹ کر ایک متنوع اور زیادہ قیمتی معیشت کی طرف بڑھا جا سکے، یہ بات معروف ماہر اقتصادیات پروفیسر عامر صوفی نے کہی۔
پروفیسر صوفی نے 25ویں زاہد حسین میموریل لیکچر میں کہا کہ ملک کا اقتصادی مستقبل ہائی ٹیک انڈسٹریز کو اپنانے پر منحصر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہائی ٹیک خدمات میں سرمایہ کاری نہ صرف قومی ترقی کے لیے بلکہ پاکستان کو دنیا کے امیر ممالک کی صف میں لانے کے لیے بھی اہم ہے۔
انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کی حمایت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ حکومت کو ایک مالیاتی نظام بنانا چاہیے جو غیر مادی سرمایہ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے اور ایسے اداروں کو فنڈنگ تک رسائی فراہم کرے۔
اسٹیٹ بینک کے نائب گورنر سلیم اللہ نے بھی موجودہ معاشی استحکام کو تسلیم کرتے ہوئے گہری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے ایس ایم ایز، نوجوانوں اور خواتین کو مالیاتی رسائی فراہم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔















