جاپان دنیا کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ کو دوبارہ کھولنے کی تیاری کر رہا ہے، جس پر عوامی احتجاج بھی سامنے آیا ہے۔
ٹوکیو: (رائیٹ ناوٴ نیوز) جاپان نے دنیا کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کاشیوازاکی-کاریوا کو دوبارہ فعال کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ یہ پلانٹ 2011 کے فوکوشیما حادثے کے بعد تقریباً 15 سال بعد دوبارہ چلایا جا رہا ہے۔ نیگاتا صوبائی حکومت نے پلانٹ کے جزوی آغاز کی منظوری دے دی ہے، جس کی حمایت صوبائی اسمبلی اور گورنر ہیدیئو ہانازومی نے کی ہے۔
جاپان نے کاربن اخراج کم کرنے اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متعدد جوہری بجلی گھروں کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کاشیوازاکی-کاریوا پہلا پلانٹ ہے جسے ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی دوبارہ چلا رہی ہے۔ پلانٹ کے سات میں سے پہلے ری ایکٹر کو 20 جنوری کو فعال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے ٹوکیو کے علاقے میں بجلی کی فراہمی میں تقریباً 2 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
تاہم، اس فیصلے پر عوامی مخالفت بھی سامنے آئی ہے۔ نیگاتا میں مقامی شہریوں اور فوکوشیما حادثے کے متاثرین نے پلانٹ کی بحالی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ جوہری حادثات کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جاپان کی نئی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے جوہری پلانٹس کی بحالی کی حمایت کی ہے تاکہ توانائی کے تحفظ اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔















