اسلام آباد میں سیاسی و معاشی جمود برقرار، حکومت اور اپوزیشن میں مفاہمت کی راہیں مسدود۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)اسلام آباد کے سیاسی ایوانوں پر چھائی دھند اب محض موسم کا حصہ نہیں رہی بلکہ یہ اس گہرے سیاسی اور معاشی جمود کی علامت بنتی جا رہی ہے جس سے نکلنے کا راستہ فی الحال واضح دکھائی نہیں دیتا۔ یہ کیفیت محض دارالحکومت تک محدود نہیں بلکہ پورے نظامِ حکومت، معیشت اور ریاستی نظم و نسق پر حاوی دکھائی دیتی ہے۔
اسی پس منظر میں 92 نیوز کے پروگرام ’’مقابل‘‘ کی حالیہ نشست میں میزبان ربیعہ حسن کے ساتھ سینئر تجزیہ کار عامر متین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان (TTAP) کے رہنما محمد زبیر نے ملک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔ گفتگو کا آغاز ہی حکومت کے اس رویے سے ہوا جسے اپوزیشن کے لیے بند دروازوں اور لچک سے مکمل عاری قرار دیا گیا۔
’’کر لو جو کرنا ہے‘‘ کی پالیسی، معیشت کا وینٹی لیٹر اور مفاہمت کا بند دروازہ
عامر متین کے مطابق اقتدار میں موجود حلقے کسی بھی سطح پر مفاہمت یا سیاسی لچک دکھانے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مجموعی رویہ یہ پیغام دیتا ہے کہ اپوزیشن جو چاہے کر لے، نظام اسی طرح چلتا رہے گا۔
ان کے بقول، حکومت اب نہ صرف اپوزیشن کے لیے سیاسی گنجائش پیدا کرنے سے گریز کر رہی ہے بلکہ وزرا کی سطح پر بڑے دعوے اور کارکردگی کے وعدے بھی تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ عامر متین کے مطابق، اب حکومتی بیانیہ یہ نہیں رہا کہ ہم ڈیلیور کر سکتے ہیں بلکہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ حالات جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔
معیشت: اعداد و شمار اور زمینی حقیقت
عامر متین نے عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے مؤقف میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک دونوں اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ موجودہ حکمتِ عملی کے تحت معیشت کو سنبھالنا حکومت کے بس کی بات نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح مقررہ ہدف سے کم رہی ہے اور خود آئی ایم ایف یہ عندیہ دے چکا ہے کہ آئندہ برسوں میں بھی اس میں کوئی نمایاں بہتری متوقع نہیں۔ ان کے مطابق نہ آمدنی بڑھانے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات سامنے آ رہے ہیں اور نہ ہی اخراجات کم کرنے یا ادارہ جاتی اصلاحات کا کوئی واضح خاکہ دکھائی دیتا ہے، جبکہ قرض لے کر قرض اتارنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
اشرافیہ اور عوام، دو الگ جہان
اسی نکتے پر محمد زبیر نے گفتگو کو معاشی اعداد و شمار سے نکال کر سماجی حقیقت کی طرف موڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران طبقہ اور عام آدمی دو مختلف دنیاؤں میں رہ رہے ہیں۔
محمد زبیر کے مطابق ملک کی ایک بڑی آبادی دو وقت کی روٹی کے انتظار میں ہے، مگر پالیسی سازی میں ان لوگوں کی مشکلات کہیں نظر نہیں آتیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جاب مارکیٹ میں آنے والے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے، جس کے اثرات براہِ راست معاشرتی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
سیاسی جواز یا معاشی استحکام؟
پروگرام میں سب سے اہم فکری بحث اس سوال پر ہوئی کہ ملک کو پہلے سیاسی استحکام درکار ہے یا معاشی استحکام۔ محمد زبیر نے حکومتی بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاشی بہتری سیاسی جواز کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
ان کے مطابق معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑا ہے، اور سیاسی استحکام صرف اسی صورت میں آ سکتا ہے جب حکومت کو عوامی جواز حاصل ہو، جو ان کے بقول موجودہ حکمران اشرافیہ کے پاس نہیں۔ انہوں نے یہ خیال بھی مسترد کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ عوام سب کچھ بھول جائیں گے، اور کہا کہ اگر واقعی عوامی مسائل کا احساس ہے تو کسی سیاسی راستے کی تلاش ناگزیر ہے۔
اس پر عامر متین نے کہا کہ سیاسی اور معاشی استحکام کو الگ الگ دیکھنا ’’انڈا اور مرغی‘‘ جیسی غیر ضروری بحث ہے، کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور اسی لیے اسے پولیٹیکل اکانومی کہا جاتا ہے۔
مزاحمت یا مذاکرات؟
ا اپوزیشن کی حکمت عملی اور محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں ہونے والی کانفرنس زیرِ بحث آئی تو محمد زبیر کے مطابق کانفرنس میں موجود کارکنان کی بڑی تعداد مذاکرات کے بجائے زیادہ جارحانہ لائحہ عمل کی حامی نظر آئی۔
انہوں نے بتایا کہ کارکنان کا مؤقف تھا کہ جب بات چیت کا راستہ پہلے آزمایا جا چکا ہے تو اب اس سے مزید کیا حاصل ہوگا۔ تاہم ان کے مطابق عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو ہر ممکن راستہ اختیار کرنے کا اختیار دے دیا ہے، چاہے وہ مذاکرات ہوں یا احتجاجی سیاست۔
اس کے برعکس عامر متین نے ماضی کے تجربات کی بنیاد پر سوال اٹھایا کہ آیا اس بار کی مزاحمتی کال واقعی کوئی نمایاں فرق پیدا کر پائے گی، کیونکہ ماضی میں بھی ایسی کالز کے نتائج محدود رہے ہیں۔
’’عطار کے لونڈے‘‘ اور مفاہمت کا سوال
پروگرام کا سب سے طنزیہ موڑ اس وقت آیا جب نواز شریف سے کردار ادا کرنے کی اپیل پر گفتگو ہوئی۔ عامر متین کے مطابق جو قوتیں اس نظام کی بنیادی بینیفشری ہیں، ان سے تبدیلی کی امید رکھنا ’’عطار کے لونڈے‘‘ والی مثال کے مترادف ہے۔
محمد زبیر نے اس نکتے پر ن لیگ کے اندر موجود اختلافی آوازوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ حلقوں میں اب یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ معاملات موجودہ انداز میں مزید نہیں چل سکتے۔
وفاق، صوبے اور ریاستی اعتماد
سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عامر متین نے ملک کو عملی طور پر ’’حالتِ جنگ‘‘ میں قرار دیا اور خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مسلسل بدامنی کا حوالہ دیا۔ دوسری جانب محمد زبیر نے وفاق کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت کو عوامی جواز حاصل نہ ہو تو صوبوں سے مکمل تعاون اور نظم و ضبط کی توقع رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
سرمایہ کاری اور رول آف لا
گفتگو کے اختتام پر محمد زبیر نے غیر ملکی سرمایہ کاری کی عدم موجودگی کو عدالتی نظام پر عدم اعتماد سے جوڑا۔ ان کے مطابق بڑے سرمایہ کار حکومت کے ساتھ معاہدوں میں بیرونِ ملک آربٹریشن پر زور دیتے ہیں کیونکہ انہیں پاکستانی عدالتوں پر اعتماد نہیں رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے اداروں کو تابع بنانے کا نقصان صرف کسی ایک جماعت یا فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری ریاست کو اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔
پروگرام ’’مقابل‘‘ کی یہ نشست اس واضح انتباہ پر ختم ہوئی کہ اگر سیاسی جواز کے بغیر طاقت کے ذریعے نظام چلانے کی کوشش جاری رہی تو اس کا انجام سنگین ہو سکتا ہے۔ محمد زبیر کے مطابق حکومت کے پاس اب بھی ایک ’’ونڈو آف اپرچونٹی‘‘ موجود ہے، مگر اگر اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو آگے کا راستہ مزید پیچیدہ اور غیر یقینی ہو جائے گا۔















