موبائل میسجز سے پرتشدد ہنگاموں تک، ڈیجیٹل دور کے نئے تقاضے

پاکستان میں عوامی اجتماعات اب سوشل میڈیا پر تشکیل پاتے ہیں، روایتی طریقے سے نہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاکستان میں ہجوم کا نیا رحجان: اسکرین پر تشکیل پاتا ہے [Draft]

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں عوامی اجتماعات اور احتجاج کی نوعیت میں تبدیلی آچکی ہے۔ ماضی میں یہ اجتماعات سیاسی جماعتوں اور مذہبی رہنماؤں کی کال پر جنم لیتے تھے، لیکن اب موبائل فون کی اسکرین پر ویڈیوز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسےفیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور سنیپ چیٹ  ان اجتماعات کے محرک بن چکے ہیں۔

یہ پلیٹ فارمز جذباتی مواد کو ترجیح دیتے ہیں، جو لمحوں میں لوگوں کو متحرک کر دیتا ہے۔ لاہور میں امن و امان سے متعلق تجربات سے واضح ہو چکا ہے کہ ہنگامے سے قبل جذباتی آگ آن لائن لگتی ہے، جس کا ہجوم بعد میں سڑکوں پر اترتا ہے۔

گزشتہ برس پنجاب کالج برائے خواتین میں جعلی نیوز الرٹ نے طلبہ کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ اسی طرح اکتوبر ۲۰۲۵ میں لاہور میں فلسطین کے حق میں احتجاج آن لائن مواد کی وجہ سے تشدد کی طرف مڑ گیا۔

مذہبی اجتماعات میں بھی یہ رفتار خطرناک ہو سکتی ہے، جیسا کہ ۲۰۲۴ میں چہلم کے دوران فرقہ وارانہ تنازعہ ہوا۔ انتظامیہ نے بروقت کارروائی کر کے صورتحال کو سنبھالا۔

پاکستان کو بدلتے ہوئے عوامی تحرک کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے ڈیجیٹل حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ اس میں آن لائن جذبات کی نگرانی اور اشتعال انگیز مواد پر نظر رکھی جائے گی۔

دیگر متعلقہ خبریں