میٹا نے ‘مینگو’ اور ‘ایووکاڈو’ ماڈلز کے ذریعے گوگل اور اوپن اے آئی کو چیلنج کیا ہے، جو 2026 میں متعارف ہوں گے۔
سان فرانسسکو: (رائیٹ ناوٴ نیوز) فیس بک کی پیرنٹ کمپنی ‘میٹا’ نے مصنوعی ذہانت کے دو نئے ماڈلز ‘مینگو’ اور ‘ایووکاڈو’ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو 2026 کے پہلے نصف میں پیش کیے جائیں گے۔
میٹا کے یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گوگل اور اوپن اے آئی مصنوعی ذہانت کے میدان میں سبقت لے جا رہے ہیں۔ میٹا چاہتی ہے کہ وہ عالمی اے آئی مقابلے میں واپسی کرے اور اس کے لیے یہ ماڈلز نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔
‘مینگو’ ایک ایسا ماڈل ہوگا جو تصاویر اور ویڈیوز کی تخلیق میں مہارت رکھے گا، جبکہ ‘ایووکاڈو’ جدید لینگویج ماڈل ہوگا جو کوڈنگ اور منطقی مسائل حل کرنے میں خاصی مہارت رکھتا ہے۔
میٹا کے چیف اے آئی آفیسر الیگزینڈر وانگ نے ان منصوبوں کی قیادت کی ہے، جو کہ ایک نئی لیب ‘میٹا سپر انٹیلیجنس لیبز’ کے تحت کام کر رہی ہے۔ اس لیب کا مقصد تحقیق اور ترقی کے عمل کو تیز کرنا ہے تاکہ میٹا کو اے آئی کی صفِ اول میں لایا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گوگل اور اوپن اے آئی کے ماڈلز مارکیٹ میں مقبول ہو رہے ہیں۔ میٹا اس دباؤ کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے اور اپنے ماڈلز کے ذریعے تخلیقی اور تکنیکی میدان میں خود کو مضبوط کرنا چاہتی ہے۔

![میٹا کا مصنوعی ذہانت ماڈلز کے ذریعے گوگل اور اوپن اے آئی کو چیلنج [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/13608_2025-12-20_16-52-35.webp)













