کمپٹیشن کمیشن نے زرعی ادویات کی مارکیٹ میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی، قوانین کے نفاذ میں کمزوریاں اور جعلی مصنوعات کا مسئلہ واضح کیا۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے زرعی ادویات اور کیڑے مار اسپرے کی مارکیٹ کے حوالے سے جامع جائزہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں اس شعبے میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان زرعی زہروں کے لیے مکمل طور پر درآمدات پر انحصار کرتا ہے، جبکہ مقامی سطح پر پیداوار کی کمی کے باعث سرمایہ کاری متاثر ہورہی ہے۔ کمیشن نے قوانین کے کمزور نفاذ اور پیچیدہ منظوری نظام کو زرعی ادویات کے شعبے کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب اور سندھ میں جعلی اور ملاوٹ شدہ زرعی زہروں کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے اور دو سالہ شیلف لائف کی شرط کے باعث بڑی مقدار میں زرعی ادویات ضائع ہو رہی ہیں۔
کمیشن نے صوبائی لیبارٹریوں میں صلاحیت کی کمی اور تربیت یافتہ عملے کے فقدان کی نشاندہی کی، جس سے جعلساز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی اختیارات میں اوورلیپ کے باعث مؤثر ریگولیٹری نظام متاثر ہوا ہے۔
کمپٹیشن کمیشن نے قوانین بہتر بنانے، منظوری کے عمل کو آسان اور تیز کرنے اور جعلی زرعی مصنوعات کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی ہے۔ مقامی پیداوار کو فروغ دینے اور ملکی آب و ہوا کے مطابق زرعی ادویات تیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

![کمپٹیشن کمیشن کی زرعی ادویات کی مارکیٹ میں خامیوں کی نشاندہی [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/13549_2025-12-20_09-29-16.webp)












