توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا پر کانفرنس میں مذمت، عدلیہ اور حکمرانوں پر تنقید۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)اگر عمران خان اتنے برے آدمی تھے تو انہیں ملک کا وزیراعظم کیوں بنایا گیا؟ یہ سوال محمود خان اچکزئی نے عدلیہ، ججز اور تحقیقاتی اداروں پر اربوں روپے کی مبینہ چوریوں سے آگاہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے اٹھایا۔
یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے ہمراہ منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں 17، 17 سال قید کی سزا سنائے جانے کے فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ملک میں احتساب کا نظام یکساں نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق بڑے مالی معاملات پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے جبکہ بعض افراد کے خلاف سخت فیصلے سامنے آتے ہیں، جس سے انصاف کے عمل پر سنجیدہ سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اختر مینگل نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو سنائی گئی سزا کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی موجود نہیں اور عام شہری کو انصاف نہیں مل رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف توشہ خانہ کیس میں سزائیں دی جاتی ہیں جبکہ دوسری جانب آئین توڑنے والوں کو اعزازات دیے جاتے ہیں۔
اسی موقع پر علامہ ناصر عباس نے عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ معیار اپنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوامی آزادی اور آئینی بالادستی کی ضرورت پر زور دیا۔
واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے اور عدالتی فیصلوں پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔

![توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا، تحریک تحفظ آئین پاکستان کا شدید ردعمل [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/13458_2025-12-20_07-22-33.webp)












