ہمارا اور عوام کا صبر ختم ہو گیا ہے، علیمہ خانم کاعمران خان کی سزا پر سخت ردعمل

علیمہ خانم نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے جلدی سنانے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ مقدمات وعدہ معاف گواہوں کی بنیاد پر چلائے جا رہے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
سلمان اکرم راجہ کی دہگل ناکہ پر عدالت میں گفتگو [Draft]

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) علیمہ خانم نے میڈیا سے گفتگو میں عدالتی فیصلے کو جلدی سنانے پر تنقید کی اور کہا کہ یہ ذہین لوگ نہیں ہیں، ان کے اسکرپٹ سمجھ نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو دھند کے موسم میں فیصلہ سنانے کی جلدی تھی۔

علیمہ خانم نے الزام لگایا کہ ان کو ڈر تھا کہ بانی سے کوئی ملاقات نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے 14 سال کی سزا سنائی گئی تھی اور اب دس دس سال کی سزائیں دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے توقع ہے کہ وہ اس کیس کو ایک سال تک نہ سنیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا اور عوام کا صبر ختم ہو گیا ہے اور ہم یہ سب مزید نہیں ہونے دیں گے۔ دو ماہ سے یہی توقع کی جا رہی تھی کہ یہی فیصلہ ہوگا۔ بشریٰ بی بی کو غیر قانونی طریقے سے قید تنہائی میں ڈالنے پر بھی سوال اٹھایا۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کیس میں کچھ نہیں ہے اور یہ مقدمات وعدہ معاف گواہوں کی بنیاد پر چلائے جا رہے ہیں۔ ان کے پاس کوئی گواہ نہیں، سوائے اس شخص کے جس کو بانی پی ٹی آئی نے خود نکالا۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے بھی وہی قیمت لگائی جو دستاویز میں شامل ہے اور یہ لغو مقدمات ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں