امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کے دو ججز پر اسرائیل کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات پر پابندیاں عائد کردیں۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکا نے غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والے عالمی فوجداری عدالت کے مزید دو ججز پر پابندیاں عائد کردیں۔ عالمی فوجداری عدالت نے اسے امریکہ کی جانب سے عدالت کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بتایا کہ جارجیا سے جج گوچا لورڈ کیپانیدزے اور منگولیا کے جج اردینی بالسورن دمدین پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ججز اسرائیلی شہریوں کے خلاف تحقیقات میں براہِ راست ملوث رہے۔
رواں ہفتے عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیل کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت نے نئی امریکی پابندیوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں عدالتی ادارے کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل عالمی فوجداری عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتے اور ماضی میں بھی اس کے خلاف تحقیقات کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا آئی سی سی کی مبینہ اختیارات کے غلط استعمال پر سخت اقدامات جاری رکھے گا۔
یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی عالمی فوجداری عدالت کے متعدد ججوں اور چیف پراسیکیوٹر پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ نومبر 2024 میں عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

![امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کے دو ججز پر نئی پابندیاں عائد کردیں [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/12923_2025-12-18_20-33-03.webp)












