مفاہمت یا مزاحمت؟ پی ٹی آئی کس راستے کا انتخاب کرے گی؟ نائٹ ایڈیشن میں گفتگو

نائٹ ایڈیشن میں سیاسی بحران، گورنر راج کے خدشات اور آئی ایم ایف کی شرائط پر گفتگو۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز)نائٹ ایڈیشن میں میزبان ثروت ولیم کے ساتھ ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جس میں حکومت کے خلاف ممکنہ تحریک، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے خدشات، اپوزیشن جماعتوں کے باہمی اختلافات، تحریک انصاف کی احتجاجی حکمتِ عملی اور آئی ایم ایف کی نئی شرائط جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔

جے یو آئی اور حکومت مخالف تحریک

پروگرام کے آغاز میں میزبان نے نشاندہی کی کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے حلقوں سے حکومت کے خلاف ممکنہ تحریک کی بات ہو رہی ہے، تاہم جے یو آئی کا مؤقف ہے کہ کسی بھی اعلان سے قبل ہم خیال سیاسی و دینی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی۔ اسی تناظر میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر بھی بات ہوئی، جس کی جے یو آئی نے دبے الفاظ میں مخالفت کی۔

جے یو آئی کے سینیئر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن مسلسل آئین اور جمہوری اقدار کی بالادستی پر زور دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق جیل میں قید افراد سے ان کے اہلِ خانہ کی ملاقات ’’آئینی حق‘‘ ہے، تاہم جیل کے باہر پرتشدد ماحول کی انہوں نے مذمت کی۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ملک میں جمہوری روایات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، جس کے اثرات سیاسی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

ون پیج اور حکمرانی کا بحران

میزبان کے سوال پر کہ آیا حالیہ فیصلوں کے بعد ’’ون پیج‘‘ یا ’’سیم پیج‘‘ کی سیاست ختم ہو رہی ہے، سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ایسی ہم آہنگی نہ تو ساکھ کے بحران کو ختم کر سکی اور نہ ہی گورننس کو بہتر بنا سکی۔ ان کے مطابق اصل مسائل ’’لیجٹی میسی، گورننس اور لوگوں کو دبانے‘‘ سے جڑے ہیں، اور یہی عوامل ملک کو مزید بحران کی طرف لے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بے روزگاری، قرضوں میں اضافہ اور امن و امان کی صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق جے یو آئی گورنر راج جیسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرے گی، تاہم کسی تحریک میں شمولیت کا فیصلہ حالات کے مکمل جائزے کے بعد ہوگا۔

تحریک انصاف کے ساتھ اعتماد کا مسئلہ

گفتگو میں تحریک انصاف کے ساتھ ممکنہ اشتراک پر بات کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ماضی کے تجربات، خصوصاً 26ویں ترمیم کے دوران کی صورتحال، کے باعث اعتماد کا فقدان موجود ہے۔ ان کے مطابق جے یو آئی کسی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بنے گی جس میں اعتماد کا بحران برقرار ہو اور جس کے نتائج غیر واضح ہوں۔

کوہاٹ جلسہ اور پی ٹی آئی کا مؤقف

پروگرام کے دوسرے حصے میں تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی ملک شفقت عباس اعوان نے کوہاٹ جلسے اور پارٹی کے احتجاجی بیانیے پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ جلسے میں سخت لہجہ دراصل گزشتہ تین برسوں کے سیاسی دباؤ کا ردعمل ہے۔ ان کے مطابق احتجاج کا مقصد تشدد نہیں بلکہ دھرنے اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے مزاحمت ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف اسلام آباد کی طرف کسی مسلح پیش رفت کا ارادہ نہیں رکھتی، بلکہ بہتر تیاری کے ساتھ دھرنے کی بات کی جا رہی ہے تاکہ کارکن طویل عرصے تک احتجاج کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم دھرنے کے لیے آئیں گے، نہ کہ تشدد کے لیے‘‘۔

گورنر راج کے خدشات

ملک شفقت عباس اعوان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کی سوچ موجود ہے، مگر حکومت عوامی ردعمل سے خائف ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو احتجاج ہوگا، کیونکہ صوبے میں تحریک انصاف کو واضح عوامی مینڈیٹ حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کا مطلب ’’گورنر ہاؤس کا گھیراؤ‘‘ تشدد نہیں بلکہ سیاسی دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ ہوگا، اور یہ سب آئینی حدود کے اندر ہوگا۔

پولیٹیکل کمیٹی اور اندرونی اختلافات

پروگرام میں تحریک انصاف کی نئی پولیٹیکل کمیٹی پر ہونے والی تنقید کا ذکر بھی کیا گیا۔ ملک شفقت عباس اعوان نے کہا کہ کمیٹی ایک طے شدہ معیار کے تحت تشکیل دی گئی ہے، جس میں اپوزیشن لیڈرز، صوبائی قیادت، خواتین اور اقلیتی نمائندگی شامل ہے۔ ان کے مطابق کمیٹی مشاورت کا فورم ہے، اور اگر مزید شمولیت کی ضرورت ہوئی تو وہ بھی قیادت کے فیصلے سے ہو سکتی ہے۔
انہوں نے ’’مائنس عمران خان‘‘ کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو افراد مشکل وقت میں پارٹی چھوڑ گئے، ان کی سیاسی حیثیت واضح ہو چکی ہے، اور تحریک انصاف کی سیاست عمران خان کے بغیر ممکن نہیں۔

معاشی محاذ اور آئی ایم ایف کی شرائط

پروگرام کے آخری حصے میں ماہرِ معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب نے آئی ایم ایف کی نئی شرائط اور ملکی معیشت کی صورتحال پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی موجودہ شرائط کوئی نئی بات نہیں، بلکہ پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے اسی فریم ورک کے تحت چل رہا ہے، جس کے نتیجے میں ڈیفالٹ کا خطرہ وقتی طور پر ٹلا ہے۔

ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق اصل مسئلہ ساختی اصلاحات کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف مسائل کی نشاندہی تو کر سکتا ہے، مگر معیشت کی بنیادی اصلاحات پاکستان کو خود کرنا ہوں گی۔ ان کے بقول ٹیکسیشن، توانائی، زرعی شعبے اور انتظامی ڈھانچے میں گہری اصلاحات کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر برآمدات اور سرمایہ کاری میں بہتری نہ آئی تو آئندہ برسوں میں پاکستان کو مزید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم موجودہ عالمی حالات پاکستان کے لیے ایک موقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔

پروگرام کی مجموعی گفتگو سے یہ تاثر سامنے آیا کہ ملک اس وقت سیاسی بے یقینی اور معاشی دباؤ کے نازک مرحلے میں ہے۔ ایک طرف حکومت مخالف تحریک اور احتجاجی سیاست زیرِ غور ہے، جبکہ دوسری جانب معیشت کو درپیش چیلنجز فوری اور فیصلہ کن اصلاحات کا تقاضا کر رہے ہیں۔ آنے والے ہفتے اس امر کا تعین کریں گے کہ سیاسی قوتیں مفاہمت کی طرف بڑھتی ہیں یا بحران مزید گہرا ہوتا ہے۔

(بشکریہ 92 نیوز)

دیگر متعلقہ خبریں