فیض حمید کی سزا کے بعد احتساب کا دائرہ وسیع ہوگا؟ نیا پاکستان میں خواجہ آصف سے سخت سوالات

فیض حمید کی سزا کے بعد احتسابی عمل اور سیاسی بیانیے پر سوالات، جنرل باجوہ کے کردار پر بھی بحث۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)جیو نیوز کے پروگرام “نیا پاکستان” میں میزبان شہزاد اقبال نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے کورٹ مارشل اور 14 سال قیدِ با مشقت کی سزا کے بعد ملک میں جاری احتسابی بحث کے مختلف پہلوؤں کو زیرِ بحث لایا۔ پروگرام میں اس سوال کو مرکزی حیثیت حاصل رہی کہ آیا فیض حمید کے اقدامات انفرادی نوعیت کے تھے یا اس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ بھی برابر کے شریک تھے، اور اگر ایسا ہے تو کیا احتساب کا دائرہ ان تک بھی پھیلے گا۔

ابتدائی گفتگو میں شہزاد اقبال نے نشاندہی کی کہ فیض حمید کی سزا کے بعد سیاستدانوں، ججز، بیوروکریٹس اور صحافیوں کے احتساب کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ ماضی میں ہونے والی سیاسی مداخلت کا ذمہ دار صرف ایک فرد تھا یا فیصلے ادارہ جاتی سطح پر کیے گئے۔ اسی تناظر میں انہوں نے نواز شریف کے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیا، جن میں وہ فیض حمید اور جنرل (ر) باجوہ دونوں کے احتساب کا مطالبہ کرتے رہے تھے۔

پروگرام میں بتایا گیا کہ دو ہفتے قبل اپنے خطاب میں نواز شریف نے عمران خان کو اقتدار میں لانے والوں کے احتساب کا مطالبہ کیا تھا، مگر فیض حمید کی سزا کے بعد انہوں نے اس فیصلے پر براہِ راست تبصرے سے گریز کیا۔ اس خاموشی نے یہ سوال پیدا کیا کہ آیا نون لیگ کی قیادت جنرل (ر) باجوہ کے احتساب کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔

شہزاد اقبال نے یاد دلایا کہ اکتوبر 2020 میں نواز شریف نے پہلی بار کھل کر جنرل (ر) باجوہ پر الزام عائد کیا تھا کہ انہیں اقتدار سے نکالنے اور عمران خان کو مسلط کرنے میں مرکزی کردار انہی کا تھا۔ اس موقع پر نواز شریف کے بیانات کو بھی پروگرام میں بیان کیا گیا، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ جنرل باجوہ نے ارکانِ پارلیمنٹ کی خرید و فروخت شروع کروائی، ججز پر دباؤ ڈال کر فیصلے لکھوائے اور انتخابات میں عوامی رائے کو مسترد کیا۔

ماضی کے بیانات اور موجودہ مؤقف

پروگرام میں یہ بھی بتایا گیا کہ فیض حمید کی سزا سے قبل حکومتی رہنما خود بھی جنرل (ر) باجوہ کے کردار پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ منشیات کیس میں ان کی گرفتاری کے پیچھے صرف فیض حمید نہیں بلکہ جنرل (ر) باجوہ بھی ذمہ دار تھے۔

اسی طرح وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیانات کا ذکر بھی ہوا، جن میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ جنرل (ر) باجوہ نے موجودہ آرمی چیف کی تعیناتی رکوانے کے لیے دباؤ ڈالا اور ٹیک اوور کی دھمکیاں بھی دیں۔

9 مئی ریاست پر حملہ

پروگرام میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے فیض حمید کے کورٹ مارشل اور 9 مئی کے واقعات پر تفصیل سے بات کی۔

خواجہ آصف نے کہا، ’’9 مئی کے واقعات کسی عام احتجاج کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ یہ ریاست اور سکیورٹی فورسز پر حملے کے مترادف تھے۔ ایسے حملے ایک منظم منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔‘‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اور فیض حمید کے درمیان ایک گٹھ جوڑ موجود تھا اور مخصوص فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے واضح اہداف دیے گئے تھے۔ ان کے مطابق یہ واقعات پنجاب اور خیبر پختونخوا دونوں میں ایک جیسے انداز میں پیش آئے، جو کسی بڑے منصوبے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ فیض حمید آرمی چیف بننے کے خواہاں تھے اور انہوں نے اس مقصد کے لیے مختلف شخصیات سے رابطے کیے۔ انہوں نے بتایا، ’’یہ تاریخ کا ایک انتہائی سنگین واقعہ تھا، جہاں ریاست کو چیلنج کیا گیا۔ یہ کسی ایک فرد کا عمل نہیں ہو سکتا تھا۔‘‘

جنرل (ر) باجوہ کا کردار، شمولیت یا نظرانداز؟

شہزاد اقبال کے سوال پر کہ اگر یہ سب کچھ ہوا تو اس میں جنرل (ر) باجوہ کا کیا کردار تھا، خواجہ آصف نے کہا کہ وہ اس پر حتمی رائے نہیں دے سکتے کہ آیا وہ براہِ راست شامل تھے یا انہوں نے جان بوجھ کر نظرانداز کیا، مگر انہوں نے یہ ضرور کہا کہ اس وقت کی حکومت کو دباؤ کا سامنا تھا۔

انہوں نے بتایا، ’’ہمیں کہا گیا کہ میری خواہش پوری کی جائے، ورنہ ٹیک اوور ہو جائے گا۔ یہ باتیں میں نے آڈیو کے ساتھ کی ہیں۔‘‘

نواز شریف، عدلیہ اور سیاسی مداخلت

پروگرام میں گفتگو کے دوران خواجہ آصف نے اپنے ذاتی تجربات کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ کس طرح انہیں نواز شریف کے بیانات کی مذمت کرنے کے لیے دباؤ میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے کہا گیا کہ اگر آپ مذمت کر دیں تو نیب کے کیسز ختم ہو جائیں گے، لیکن میں نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔‘‘

انہوں نے عدلیہ کے کردار پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ماضی میں کچھ فیصلے غیر معمولی انداز میں کیے گئے، جن کا فائدہ عمران خان کو پہنچا۔ ان کے مطابق،  ’’جوڈیشری کو بھی دیکھنا ہوگا کہ کن کے کہنے پر فیصلے کیے گئے۔‘‘

کیا احتساب آگے بڑھے گا؟

پروگرام میں یہ سوال بار بار اٹھایا گیا کہ آیا فیض حمید کی سزا کے بعد احتساب کا عمل عمران خان یا جنرل (ر) باجوہ تک پہنچے گا۔ اس حوالے سے سینیٹر فیصل واوڈا اور صحافی انصار عباسی کی رپورٹس کا حوالہ دیا گیا، جن میں کہا گیا کہ فی الحال جنرل (ر) باجوہ کے خلاف کوئی کیس یا تحقیقات نہیں ہو رہیں اور فیض حمید کے خلاف کارروائی ان کے انفرادی اقدامات تک محدود تھی۔

ذرائع کے مطابق، فوجی احتساب مکمل طور پر شواہد پر مبنی تھا اور سابق آرمی چیف کو اس کیس سے جوڑنے والا کوئی مواد موجود نہیں۔

پی ٹی آئی کی اندرونی صورتحال اور احتجاجی بیانیہ

پروگرام کے دوسرے حصے میں پاکستان تحریک انصاف کی اندرونی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ بتایا گیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے مفاہمانہ لہجہ اپنایا، مگر خیبر پختونخوا کی قیادت نے جارحانہ بیانات دیے۔

کوہاٹ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل افریدی نے کہا،  ’’اس بار ہم کفن پہن کر ڈی چوک جائیں گے، یا تو آزادی لے کر آئیں گے یا مارے جائیں گے۔‘‘

اس بیان کے بعد یہ تاثر سامنے آیا کہ پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت مختلف حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

 احتجاج آئینی حق ہے، شیخ وقاص اکرم

اسی موضوع پر پروگرام میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی پرامن اور آئینی احتجاج پر یقین رکھتی ہے، مگر جب تمام راستے بند کر دیے جائیں تو احتجاج آخری راستہ رہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جب عدالتوں، پارلیمان اور سینیٹ میں ہمیں دیوار سے لگایا جائے تو آئین ہمیں احتجاج کا حق دیتا ہے۔‘‘

شیخ وقاص اکرم نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ پارٹی دباؤ میں ہے، اور کہا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت کارکنوں کے جذبات کی عکاسی کر رہی ہے۔

شہزاد اقبال نے گفتگو کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ فیض حمید کی سزا نے ماضی کی سیاسی مداخلت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف حکومت احتساب کے دائرہ کار کے وسیع ہونے کی بات کر رہی ہے، تو دوسری طرف مختلف حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ شواہد کے بغیر کسی نئے مرحلے کا آغاز ممکن نہیں۔

 

یہ سوال بدستور موجود ہے کہ آیا یہ احتساب صرف ایک فرد تک محدود رہے گا یا آنے والے دنوں میں اس کے اثرات مزید شخصیات تک پھیلیں گے۔

پروگرام کے اختتام پر شہزاد اقبال نے افغانستان اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی، جہاں خیبر پختونخوا کی وادی تیراہ میں ممکنہ فوجی آپریشن کی تیاریوں، مقامی عمائدین سے جاری مذاکرات اور ممکنہ بے گھر افراد کے لیے مالی پیکج پر مشاورت کا ذکر ہوا۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ سکیورٹی حکام مقامی آبادی کو کم سے کم نقصان پہنچانے کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ عمائدین نے نقل مکانی، مالی معاونت اور تحریری معاہدے کے مطالبات پیش کیے ہیں۔

اسی تناظر میں ایران میں افغانستان کی صورتحال پر ہونے والے علاقائی اجلاس کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں پاکستان، روس، چین اور وسطی ایشیائی ممالک نے شرکت کی، تاہم افغانستان نے اس اجلاس میں شرکت سے انکار کیا۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خطرہ خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اور پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق نے زور دیا کہ افغان عوام پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ڈی فیکٹو حکمران افغان سرزمین سے ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کریں۔

پروگرام میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاک افغان سرحد کی بندش سے دونوں ممالک کو بھاری معاشی نقصان ہو رہا ہے، جس سے تاجر، کسان اور عام شہری شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

 

بشکریہ جیو نیوز

دیگر متعلقہ خبریں