جنرل فیض حمید کی سزا کے بعد ملکی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی، حکومتی اور پی ٹی آئی مؤقف سامنے آیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)92 نیوز کے پروگرام نائٹ ایڈیشن میں میزبان ثروت ولیم نے ایک ایسے فیصلے کو موضوع بنایا جس نے ملکی سیاست اور طاقت کے مراکز میں نئی بحث کو جنم دیا۔ پروگرام میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو دی جانے والی سزا کے بعد ابھرتے سوالات، ممکنہ قانونی و سیاسی اثرات اور آئندہ کے خدشات زیرِ بحث آئے۔
اس گفتگو میں حکومتی مؤقف، اپوزیشن پر لگائے گئے الزامات اور پاکستان تحریک انصاف کے مستقبل سے متعلق دعوے تفصیل سے سامنے آئے۔ پروگرام میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان بطور مہمان شریک ہوئے، جبکہ بعد ازاں پی ٹی آئی کے مؤقف کے لیے نعیم حیدر پنجوتا کو مدعو کیا گیا۔
ابتدائی گفتگو میں میزبان نے واضح کیا کہ جنرل فیض حمید کی سزا کے بعد ایک نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ فیض حمید نیٹ ورک کی کڑیاں نو مئی کے واقعات سے جڑی ہیں، جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ہر اس فرد کے احتساب کا بیانیہ سامنے آ رہا ہے جسے اس نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا مزید ہائی پروفائل شخصیات، حتیٰ کہ ماضی کے جج بھی اس دائرے میں آ سکتے ہیں۔
حکومتی بیانات اور احتساب کا دائرہ
میزبان نے گفتگو میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے بیان کا حوالہ دیا، جن کے مطابق جنرل فیض حمید کی سزا کے بعد “کوئی نہیں بچے گا”، اور اس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے نام بھی لیے گئے۔ اسی کے ساتھ وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے اس مطالبے کا ذکر کیا گیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ میزبان کے مطابق خواجہ آصف یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنرل باجوہ نے فیلڈ مارشل کی تقرری رکوانے کے لیے دباؤ اور دھمکیاں دیں، پہلے فیض حمید کو آرمی چیف بنانے کی کوشش کی گئی اور بعد میں دیگر نام سامنے آئے۔
ان نکات کے بعد میزبان نے وہ مرکزی سوال رکھا جو پوری گفتگو پر حاوی رہا: کیا جنرل فیض حمید کی سزا کے بعد اب پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان پر باری آ رہی ہے؟
عمران خان کے سابق بیانات اور گواہی سے متعلق دعوے
پروگرام میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ جنرل فیض حمید کی گرفتاری کے وقت اڈیالہ جیل میں عمران خان نے کہا تھا کہ فیض حمید کے خلاف تمام کیسز دراصل انہیں فوجی عدالت میں لے جانے کے لیے بنائے جا رہے ہیں، اور فیض حمید کو ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں سینیٹر فیصل واوڈا کا بیان بھی سامنے رکھا گیا کہ اب فیض حمید عمران خان کے خلاف شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ گواہی دینے جا رہے ہیں۔
اختیار ولی خان کا مؤقف: “الٹی میٹ بینیفشری عمران خان تھے”
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اختیار ولی خان نے گفتگو میں واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا:
“جنرل فیض حمید نے جتنے آپریشنز کیے، جتنا ایجنڈا تھا اور جتنی چیزیں ایگزیکیوٹ کی گئیں، ان کا الٹی میٹ بینیفشری عمران خان تھے۔”
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے اس دائرے کا نیکسس کھلے گا، بات بشریٰ بی بی اور اس وقت کے بعض کابینہ اراکین تک بھی پہنچ سکتی ہے، جن میں کچھ مفرور ہیں اور کچھ منظرِ عام سے غائب۔ ان کے مطابق جنرل فیض حمید کے پاس وہ تمام معلومات ہیں جو ان افراد تک پہنچتی ہیں۔
اختیار ولی خان نے چھبیس نومبر کی “فائنل کال” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب “ڈو اور ڈائی” تھا، اور اس دوران جانوں کے ضیاع کی پروا کیے بغیر عمران خان جیل سے نکلنا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق یہ تمام دباؤ اس وقت بڑھا جب جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل کی کارروائی شروع ہو چکی تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نو مئی کے واقعات ایک منصوبہ بند بغاوت کا حصہ تھے، جس میں کچھ سابق وزرا اور رہنما شامل تھے، اور اس کا مقصد ملک میں افراتفری پیدا کرنا تھا۔ ان کے بقول زمینوں پر قبضے، پیسے اکٹھے کرنے اور سرکاری اداروں کے استعمال جیسے الزامات بھی اسی تناظر میں سامنے آئے۔
عدالتی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے الزامات
اختیار ولی خان نے عدالتی امور پر اثرانداز ہونے کے دعوے دہراتے ہوئے کہا:
“اگر ایک ڈی جی آئی ایس آئی عدالتی فیصلوں کو اپنی مرضی سے توڑے مروڑے اور ججز کو ہدایات دے کہ ایسے فیصلے کرو، تو پھر سوال یہ ہے کہ اس کا الٹی میٹ بینیفشری کون تھا؟ وہ عمران خان تھے۔”
انہوں نے پانامہ کیس کے فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے بھی جنرل فیض حمید پر اثر و رسوخ استعمال کرنے کا الزام دہرایا، اور کہا کہ مقصد نواز شریف کو سیاست سے باہر کرنا تھا تاکہ عمران خان کو اقتدار میں لایا جا سکے۔
نو مئی اور ممکنہ ٹرائلز
نو مئی کے حوالے سے میزبان نے سوال اٹھایا کہ اگر معاملہ کھل چکا ہے تو کن پی ٹی آئی رہنماؤں کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس پر اختیار ولی خان نے کہا کہ چونکہ کیسز سب جیوڈس ہیں، اس لیے نام لینا مناسب نہیں، تاہم یہ ضرور کہا کہ اس وقت کے وفاقی وزرا اور کابینہ اراکین اس میں شامل تھے، اور ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت لوگوں کو خیبر پختونخوا سے لایا گیا۔
انہوں نے علی امین گنڈاپور کے ایک بیان کا حوالہ دیا جس میں نو مئی کے واقعات کا اعتراف اور معافی شامل تھی، اور کہا کہ اب تک عمران خان یا پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے ایسا اعتراف کیوں نہیں کیا، یہ بھی ایک سوال ہے۔
جنرل باجوہ کے کردار پر اختلاف
پروگرام میں میزبان نے مولانا فضل الرحمٰن کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ پی ڈی ایم حکومت کی تشکیل اور عمران خان حکومت کے خاتمے میں جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید دونوں کا کردار تھا، اور مسلم لیگ (ن) نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ اس پر اختیار ولی خان نے اختلاف کرتے ہوئے کہا:
“میرے پاس جو فرسٹ ہینڈ نالج ہے اس کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت نیوٹرل ہو چکے تھے، اور انہوں نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔”
انہوں نے جیو آئی کے اراکین پر ہونے والے واقعات اور سندھ ہاؤس کے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی قسم کی سہولت کاری ہوتی تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔
پی ٹی آئی کے ممکنہ مستقبل پر گفتگو
گفتگو کے اختتام پر میزبان نے اختیار ولی خان کے ایک ٹویٹ کا حوالہ دیا جس میں پی ٹی آئی کے کالعدم ہونے کی صورت میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ضمنی انتخابات کی بات کی گئی تھی۔ اس پر انہوں نے وضاحت کی کہ یہ خواہش نہیں بلکہ موجودہ حالات کا تجزیہ ہے، اور اگر نو مئی کے معاملات میں مزید تحقیقات ہوئیں تو پی ٹی آئی اور عمران خان کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
پی ٹی آئی کا جواب: نعیم حیدر پنجوتا کا مؤقف
پروگرام کے آخر میں پی ٹی آئی رہنما نعیم حیدر پنجوتا نے مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ چاہے بات گورنر راج کی ہو، پی ٹی آئی پر پابندی کی یا عمران خان کو مائنس کرنے کی، ان تمام معاملات کا مرکز عمران خان ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان “جھک نہیں رہے، ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنے نظریے پر قائم ہیں”، جبکہ ان کے مخالفین خوف کا شکار ہیں اور اسی خوف کے باعث مقدمات، دھمکیاں اور الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
نائٹ ایڈیشن کی اس طویل گفتگو میں جنرل فیض حمید کی سزا کو محض ایک فرد کا معاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع سیاسی اور قانونی عمل کا آغاز قرار دیا گیا۔ حکومتی نمائندے اسے نو مئی اور مبینہ سازشوں سے جوڑتے رہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اسے سیاسی دباؤ اور خوف کی عکاسی کہا گیا۔ پروگرام کا اختتام انہی سوالات کے ساتھ ہوا کہ آگے کیا ہوگا، احتساب کا دائرہ کہاں تک جائے گا، اور یہ عمل ملکی سیاست کو کس سمت لے جائے گا۔
بشکریہ 92 نیوز















