حکومت کی آئی ایم ایف کو مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم کی یقین دہانی

حکومت نے آئی ایم ایف کو مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم کی یقین دہانی کرائی۔ صوبے قرض پروگرام کے خلاف کوئی اقدام نہیں کریں گے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حکومت نے آئی ایم ایف قرض پروگرام پر عمل درآمد کے لیے اہم یقین دہانیاں کرائیں ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق وفاق اور صوبے مل کر پروگرام کی تمام شرائط پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔ صوبائی حکومتیں قرض پروگرام کے خلاف کوئی اقدام نہیں کریں گی اور پروگرام پر اثر انداز ہونے والے فیصلوں میں آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ نیشنل فسکل پیکٹ کے تحت اخراجات صوبوں کو منتقل کیے جا رہے ہیں، اور اہداف کے حصول کے لیے اضافی اقدامات کیے جائیں گے۔ ایف بی آر اور صوبوں کے درمیان ٹیکس ڈیٹا کے تبادلے کو یقینی بنایا جائے گا۔

دستاویزات کے مطابق صوبوں کے ساتھ معلومات کے تبادلے کا نظام مئی 2026 تک فعال کرنے کا ہدف ہے۔ صوبوں نے زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کے لیے جامع اصلاحاتی منصوبے تیار کیے ہیں جن میں ٹیکس چوری روکنے کے اقدامات شامل ہیں۔

پروگرام میں کسی تبدیلی سے پہلے آئی ایم ایف سے مشاورت لازمی ہوگی۔ صوبے وفاقی وزارت خزانہ کے ذریعے آئی ایم ایف سے رابطہ کریں گے اور پروگرام پر اثر انداز ہونے والے فیصلوں میں آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

وزارت خزانہ کے مطابق این ایف سی وفاقی اور صوبائی مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جی ایس ٹی قوانین اور کوڈنگ کو تمام صوبوں میں ہم آہنگ کیا جائے گا اور منفی فہرست میں کسی بھی تبدیلی کا فیصلہ نیشنل ٹیکس کونسل کرے گی۔

دیگر متعلقہ خبریں