جنرل فیض حمید کے خلاف سیاسی معاملات میں مداخلت پر مقدمہ چلے گا یا نہیں؟

جنرل فیض حمید کی سزا کے سیاسی مضمرات، احتساب اور آئی ایم ایف کی نئی شرائط پر گفتگو۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) جیو نیوز کے ٹی وی پروگرام “نیا پاکستان” میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی عدالت کی جانب سے 14 سال قیدِبامشقت کی سزا، اس کے سیاسی مضمرات، ممکنہ مزید احتساب اور آئی ایم ایف کی نئی شرائط پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پروگرام میں سیاسی، عدالتی اور معاشی پہلوؤں کو ایک ہی تناظر میں زیرِ بحث لایا گیا، جہاں حکومتی نمائندوں اور سینئر صحافیوں نے مختلف زاویوں سے مؤقف پیش کیا۔

پروگرام کے سیاسی حصے میں میزبان شہزاد اقبال نے سینئر صحافی حامد میر سے سوال کیا کہ جنرل فیض حمید کے خلاف فیصلے کی اصل اہمیت کیا ہے اور کیا یہ احتساب کا اختتام ہے یا آغاز۔

اس پر حامد میر نے کہا، ’’اس فیصلے کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ ملٹری کورٹ کا فیصلہ ہے۔ ماضی میں سویلین عدالتوں نے بھی بڑے فیصلے دیے، مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا، جیسے جنرل مشرف کا فیصلہ یا اصغر خان کیس۔‘‘

انہوں نے یاد دلایا کہ ’’عمران خان کے دور میں جنرل مشرف کے فیصلے پر عمل نہ ہونے دینا اسی روایت کا تسلسل تھا۔‘‘

حامد میر کے مطابق، موجودہ مرحلے پر یہ فیصلہ ’’فی الحال ایک کرپشن کیس تک محدود ہے‘‘ تاہم آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز واضح کرتی ہے کہ ’’جنرل فیض کی سیاسی معاملات میں مداخلت پر تحقیقات جاری ہیں اور اس پر علیحدہ مقدمات چلیں گے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ مقدمات منطقی انجام تک پہنچے تو ’’سیاست میں انٹیلی جنس ایجنسیز کے کردار کو محدود کرنے کے عمل کا آغاز ہو سکتا ہے۔‘‘

انہوں نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’اگر اس کیس میں جنرل فیض کی شمولیت ثابت ہو گئی تو یہ مستقبل میں فوجی افسران کی سیاست میں مداخلت کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ یہ ایک اچھی شروعات ہے، لیکن اصل امتحان ابھی باقی ہے۔‘‘

میزبان کے دوسرے سوال پر کہ آیا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ کے خلاف کارروائی واقعی ہو گی یا یہ محض دباؤ ہے۔
حامد میر نے کہا، ’’اس پورے معاملے میں صرف ریٹائرڈ فوجی افسران یا ججز نہیں، بلکہ صحافی، موجودہ پارلیمنٹ کے ارکان، متاثرین اور فائدہ اٹھانے والے سب شامل ہیں۔‘‘

انہوں نے بطور مثال موجودہ وزیر ریلوے حنیف عباسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ پارٹی تبدیل کریں، انکار پر مقدمہ بنا، 25 سال کی سزا ہوئی اور جیل میں دباؤ ڈالا گیا۔ یہ ریاستی طاقت کے سیاسی استعمال کی واضح مثال ہے۔‘‘
حامد میر کے مطابق، ’’سب سے پہلے جنرل فیض کی سیاست میں مداخلت کا کیس چلنا چاہیے، جس کے بڑے گواہ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری ہیں۔‘‘

نواز شریف کی خاموشی سے متعلق سوال پر حامد میر نے کہا، ’’اگر سیاسی مداخلت کی تحقیقات شروع ہوئیں تو یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ نواز شریف کو جیل سے سیدھا لندن کیسے بھیجا گیا، اور اس کے پیچھے جنرل فیض کا کردار کیا تھا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’جنرل فیض نواز شریف کے بعد زرداری کو بھی ہٹانا چاہتے تھے، اور بالآخر عمران خان کو بھی، کیونکہ مقصد صدارتی نظام لانا تھا۔” ان کے مطابق جنرل فیض یہ کہتے تھے، “آپ کو ہسٹری کی رائٹ سائیڈ پر کھڑا ہونا چاہیے، میں 2030 تک کہیں نہیں جا رہا۔‘‘

پروگرام میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے بھی سوالات کیے گئے۔ نواز شریف کی خاموشی پر انہوں نے کہا، ’’نواز شریف نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی ذات کے لیے کسی کے خلاف کارروائی نہیں چاہتے، لیکن جن فیصلوں سے ملک کو نقصان پہنچا، ان کا احتساب ضروری ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’یہ معاملہ کسی ایک فرد کو سزا دلوانے کا نہیں بلکہ نظام کو درست کرنے کا ہے۔ اگر ایک اعلیٰ فوجی افسر کا احتساب ہو سکتا ہے تو باقی ادارے کیوں مستثنیٰ ہوں؟‘‘

عدلیہ سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا، ’’اگر اتنے بڑے عہدے پر بیٹھا شخص سزا پا سکتا ہے تو عدلیہ سمیت دیگر اداروں میں بھی خود احتسابی ہونی چاہیے۔‘‘

پروگرام کے آخری حصے میں گفتگو کا رخ معیشت کی طرف موڑا گیا۔ میزبان نے آئی ایم ایف کی 11 نئی شرائط پر سوال اٹھایا، جس پر سینئر صحافی شہباز رانا نے کہا، ’’آئی ایم ایف پروگرام بنیادی طور پر اصلاحات کا پروگرام ہے۔ پہلا مرحلہ معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا، مگر یہ استحکام سرمایہ کاری اور برآمدات میں تبدیل نہیں ہو سکا۔‘‘

ان کے مطابق نئی شرائط ’’شوگر سیکٹر، گورننس اور کرپشن‘‘ میں حکومتی کمزوریوں کے باعث لگائی گئیں۔

گورننس پر فوکس سے متعلق سوال پر شہباز رانا نے کہا، ’’آئی ایم ایف اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ خراب گورننس، ایلیٹ کیپچر اور کرپشن سرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ ہیں، اسی لیے اثاثوں کی تفصیلات، رسک اسیسمنٹ اور ڈی ریگولیشن جیسی شرائط شامل کی گئیں۔‘‘
منی بجٹ کے خدشے پر انہوں نے بتایا، ’’پانچ ماہ میں 430 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس شارٹ فال سامنے آ چکا ہے، جس کے باعث حکومت منی بجٹ لانے پر مجبور ہو سکتی ہے، مگر مزید ٹیکس معیشت کو سست کر سکتے ہیں۔ بہتر راستہ اخراجات میں کمی اور اصلاحات ہیں۔‘‘

پروگرام میں مجموعی طور پر یہ تاثر ابھرا کہ جنرل (ر) فیض حمید کی سزا محض ایک فرد کے احتساب تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے عمل کی ابتدا ہو سکتی ہے جو ماضی کی سیاسی انجینئرنگ، ادارہ جاتی مداخلت اور معاشی بدانتظامی کے کئی پہلوؤں کو بے نقاب کرے۔ تاہم اس عمل کی اصل سمت اور وسعت کا تعین آنے والی تحقیقات اور ان پر ہونے والے عمل درآمد سے ہوگا۔

بشکریہ جیو نیوز

دیگر متعلقہ خبریں