، ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی قبضہ سکینڈل کیسے منظر عام پر آیا؟ یہ نیوز کس نے اور کہاں بریک کی؟ جنرل فیض حمید کےاس قبضہ میں کردار کو منظر عام پر لانے کی کہانی
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ا اسلام آباد میں ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی سے جڑا واقعہ 15 مئی 2017 کو اس وقت قومی بحث کا حصہ بنا جب 92 نیوز کے پروگرام “مقابل” میں اس پر پہلی بار تفصیلی گفتگو سامنے آئی۔ اس سے قبل کنور معیز کے گھر پر چھاپے کے حوالے سے ایک دو مختصر خبریں ضرور شائع ہوئیں، تاہم اس دور میں ریاستی طاقت کے توازن اور بعض بااثر شخصیات کے اثر و رسوخ کے باعث یہ معاملہ اس کے میرٹ پر رپورٹ نہیں ہو سکا۔ اس وقت جنرل فیض حمید ایک نہایت طاقتور عہدے پر فائز تھے، اور اسی پس منظر میں میڈیا میں احتیاط اور خوف کا عنصر نمایاں تھا، جس کے باعث اصل سوالات پس منظر میں چلے گئے۔
ایسے ماحول میں “مقابل” وہ پہلا پلیٹ فارم بنا جہاں سینئر صحافی عامر متین نے اس واقعے کو محض ایک گرفتاری کے طور پر نہیں بلکہ اربوں روپے کی ہاؤسنگ سوسائٹی، قبضہ گروپوں کی لڑائی اور رینجرز کے غیر معمولی کردار کے تناظر میں سامنے رکھا۔ یہی وہ رپورٹنگ تھی جس نے پہلی بار ریاستی اداروں کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے، اور جس کے مختلف پہلو آج، برسوں بعد، جنرل فیض حمید کے خلاف سامنے آنے والے قانونی فیصلوں اور سزا کے تناظر میں دوبارہ زیرِ بحث آ رہے ہیں۔
پروگرام کے آخری حصے کو شروع کرتے ہوئے میزبان ثروت ولیم نے ناظرین کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں رینجرز کی جانب سے ایک ایسا عمل شروع ہوا ہے جو بظاہر قانون نافذ کرنے کی کارروائی نہیں بلکہ ایک بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی کے قبضہ سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ سب کچھ وزارتِ داخلہ کی منظوری سے ہو رہا ہے یا متعلقہ حکام کو اعتماد میں لیے بغیر۔
اسی پس منظر میں گفتگو سینئر صحافی عامر متین کی طرف موڑی گئی، جن سے کہا گیا کہ وہ اس معاملے کی اصل کہانی بیان کریں۔
عامر متین اس وقعے کے عینی شاہد کیسے بنے؟
عامر متین نے گفتگو کے آغاز میں واضح کیا کہ وہ اس واقعے کو محض ذرائع کی بنیاد پر بیان نہیں کر رہے، بلکہ وہ خود اس کارروائی کے عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کنور معیز ان کے پڑوسی ہیں، جس کی وجہ سے چھاپے کے وقت ہونے والی نقل و حرکت، فورس کی موجودگی اور کارروائی کی نوعیت ان کی آنکھوں کے سامنے تھی۔
ان کے مطابق کارروائی صبح چار بجے کے قریب شروع ہوئی، جب ایک بڑی نفری کے ساتھ رینجرز نے کنور معیز کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اس دوران نہ صرف کنور معیز بلکہ ان کے سسر، سالے، ملازمین اور گارڈز کو بھی حراست میں لیا گیا۔ گھر کے اندر توڑ پھوڑ کی گئی، تجوریوں کی تلاشی لی گئی اور کمپیوٹرز سمیت مختلف دستاویزات ضبط کر لی گئیں۔
عامر متین نے بتایا کہ یہی کارروائی بعد ازاں G-11/1میں واقع دفتر اور پھر ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی سائٹ پر بھی دہرائی گئی، جہاں تمام عمل رینجرز کی نگرانی میں ہوتا رہا۔
پولیس کی لاعلمی اور سرکاری خاموشی
عامر متین کے مطابق حیران کن پہلو یہ تھا کہ راولپنڈی پولیس کے اعلیٰ افسران نے اس بات سے لاعلمی ظاہر کی کہ ان کے دائرہ اختیار میں اتنا بڑا آپریشن کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نہ رینجرز اور نہ ہی وزارتِ داخلہ کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے آئی، جس نے شکوک کو مزید بڑھا دیا۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد میڈیا میں کنور معیز کے خلاف ایم کیو ایم سے مبینہ تعلق کے حوالے سے خبریں چھپوائی گئیں، تاہم ان الزامات کی سرکاری سطح پر کبھی تصدیق نہیں کی گئی۔
رینجرز کا کردار اور اصل سوال
عامر متین نے اس کارروائی کو محض گرفتاری تک محدود ماننے سے انکار کیا اور اس کے بعد ہونے والی پیش رفت کو اصل مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا،
“یہاں اصل معاملہ کسی کی گرفتاری کا نہیں ہے، کیونکہ اگر مقصد صرف کنور معیز کو حراست میں لینا ہوتا تو وہ عام طریقے سے بھی پکڑے جا سکتے تھے۔ وہ کوئی مفرور نہیں تھے، دس برس سے اسی شہر میں رہ رہے تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ گرفتاری کے فوراً بعد ہاؤسنگ سوسائٹی کا عملی کنٹرول مخالف گروپ کے حوالے کر دیا گیا، اور یہ سب کچھ رینجرز کی موجودگی میں ہوا۔ رینجرز اگر کسی کو گرفتار کر سکتی ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کسی گروپ کو قبضہ دلوانے میں کیسے شریک ہو سکتی ہیں۔”
ان کے مطابق یہی نکتہ اس کارروائی کو ایک معمول کی قانون نافذ کرنے کی کارروائی کے بجائے قبضہ گروپوں کی لڑائی میں ریاستی ادارے کے استعمال کی طرف لے جاتا ہے۔
وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کون تھے؟
اس وقت، یعنی مئی 2017 میں پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف تھے۔ چوہدری نثار علی خان انہی کی کابینہ میں وفاقی وزیر داخلہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ اسی تناظر میں پروگرام میں یہ سوال بھی بالواسطہ طور پر اٹھایا گیا کہ آیا یہ کارروائی منتخب حکومت کے سیاسی کنٹرول میں ہوئی یا ریاستی اداروں نے خودمختار انداز میں قدم اٹھایا۔
پروگرام کے دوران عامر متین نے اس نکتے پر خاص طور پر توجہ دلائی کہ رینجرز کا یہ غیر معمولی آپریشن وزارتِ داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور اس وقت ملک کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان تھے۔ عامر متین کے مطابق سب سے بڑا سوال یہی تھا کہ آیا اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی کارروائی وزیر داخلہ کے علم اور اجازت سے ہوئی یا نہیں۔
عامر متین نے بتایا کہ اس معاملے نے اس لیے بھی زیادہ سنجیدگی اختیار کی کہ چوہدری نثار علی خان کا قومی اسمبلی کا حلقہ بھی اسی خطے سے ملتا جلتا تھا، اور عمومی طور پر ان پر یہ الزام نہیں لگتا رہا کہ وہ قبضہ مافیا یا مالی بدعنوانی کا حصہ رہے ہوں۔ اسی لیے، ان کے مطابق، رینجرز کی خاموشی کے ساتھ ساتھ وزیر داخلہ کی طرف سے بھی کوئی فوری وضاحت سامنے نہ آنا کئی نئے سوالات کو جنم دے رہا تھا۔
عامر متین نے کہا،’’یہ اتنا بڑا آپریشن ہے کہ اس کے بارے میں یہ ماننا مشکل ہے کہ وزیر داخلہ کو علم نہ ہو، لیکن اگر واقعی انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تو یہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات ہے۔‘‘
رؤف کلاسرا کا تجزیہ
پروگرام میں شریک سینئر صحافی راؤف کلاسرا نے کہا کہ یہ معاملہ اسلام آباد کی پراپرٹی میں جاری ایک بڑے بحران کی علامت ہے، جہاں اربوں روپے کے مفادات وابستہ ہیں اور ہزاروں الاٹیز غیر یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وزارتِ داخلہ اور رینجرز کی خاموشی نے شہریوں میں خوف اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔
قانونی اور انسانی سوالات
گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اگر الزامات درست بھی ہوں تو حراست میں لیے گئے افراد کو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کرنا لازم ہے۔ عامر متین کے مطابق متاثرہ خاندان کو سب سے زیادہ خوف اس بات کا تھا کہ افراد کو کہاں رکھا گیا ہے اور آیا ان پر دباؤ ڈال کر کاغذات پر زبردستی دستخط کروائے جا رہے ہیں۔
15 مئی 2017 کے پروگرام “مقابل” میں سامنے آنے والی یہ گفتگو اس واقعے پر پہلا جامع صحافتی ریکارڈ ثابت ہوئی، جس نے کنور معیز کے گھر پر چھاپے کو محض ایک گرفتاری کے واقعے کے بجائے ایک بڑے سوال میں بدل دیا۔
یہی وہ نقطہ تھا جہاں ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کا معاملہ ایک مقامی کارروائی سے نکل کر قومی سطح پر ادارہ جاتی کردار، قانون کی عملداری اور شہری حقوق کے تناظر میں دیکھا جانے لگا۔
بشکریہ 92 نیوز















