جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قید،  ادارہ جاتی مداخلت، سیاسی جوڑ توڑ اور احتساب کا دائرہ کار

جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی عدالت نے 14 سال قید کی سزا دی، سیاسی جوڑ توڑ اور ادارہ جاتی مداخلت پر بحث جاری۔
سماءنیوز کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں سیر حاصل گفتگو

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)  پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ میں ایک غیر معمولی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی عدالت کی جانب سے 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں ادارہ جاتی مداخلت، سیاسی جوڑ توڑ اور احتساب کے دائرہ کار پر پہلے ہی شدید بحث جاری ہے۔

سماء نیوز کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں میزبان ندیم ملک نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی بطور ادارہ قومی دفاع اور سلامتی میں ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے، تاہم سیاسی معاملات میں اس کے کردار پر مختلف ادوار میں سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے آئی جے آئی کی تشکیل، 2014 کے اسلام آباد دھرنے، فیض آباد تحریک لبیک احتجاج اور ان پر آنے والے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا۔

ماضی کا پس منظر اور عدالتی نظائر

میزبان کے مطابق 1988 اور 1990 کی دہائی میں آئی جے آئی کی تشکیل کا مقصد محترمہ بینظیر بھٹو کو اقتدار سے باہر رکھنا تھا، جس پر بعد ازاں ایئر مارشل (ر) اصغر خان کی درخواست پر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا، تاہم اس فیصلے کے نتیجے میں ہونے والی تحقیقات منطقی انجام تک نہ پہنچ سکیں۔ اسی طرح بعد کے برسوں میں مختلف احتجاجی تحریکوں کے دوران بھی ریاستی کردار پر سوالات اٹھتے رہے۔

 

ٹاپ سٹی کیس اور الزامات

گفتگو کے دوران ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس میں براہِ راست الزامات جنرل (ر) فیض حمید سے جا ملتے ہیں۔ پروگرام میں بتایا گیا کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان کو دباؤ میں لانے، قانون سے بالاتر اقدامات اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق معلومات طویل عرصے سے پبلک ڈومین میں موجود تھیں، تاہم عملی کارروائی حالیہ عرصے میں شروع ہوئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل (ر) فیض حمید کو چار الزامات پر سزا سنائی گئی، جن میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال، اور شہریوں کو ناجائز نقصان پہنچانا شامل ہیں۔ ان الزامات پر مجموعی طور پر 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا دی گئی ہے۔

 

رانا ثنا اللہ، ادارہ اور فرد میں فرق

پروگرام میں وزیر اعظم کے  معاون خصوصی برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ادارے اور فرد کے کردار میں واضح فرق کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ادارہ جاتی ضرورت کے تحت کیے گئے اقدامات اور ذاتی ایجنڈے پر مبنی سرگرمیوں میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا،’’اگر کوئی افسر ادارہ جاتی ذمہ داری کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کے لیے اختیارات استعمال کرے تو پھر ادارہ اسے تحفظ نہیں دیتا۔ ایسے معاملات میں انجام یہی ہوتا ہے جو آج سامنے آیا ہے۔‘‘

رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ سزا کے فیصلے میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام سرفہرست ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ صرف انتظامی یا پیشہ ورانہ حدود تک محدود نہیں رہا۔

 

9مئی اور آئندہ قانونی راستہ

گفتگو کے دوران 9 مئی 2023 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ اس حوالے سے تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔ ان کے مطابق اگر شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ جنرل (ر) فیض حمید سیاسی سرگرمیوں کے دوران دیگر افراد کے ساتھ مل کر سرگرم رہے، تو پھر وہ سیاسی قیادت بھی احتساب کے دائرے میں آ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا،’’اگر شواہد آگے بڑھتے ہیں تو سیاسی قیادت سائلنٹلی پراسیکیوٹ ہوگی۔‘‘

 

بیرسٹر عمر نیازی، بلاامتیاز احتساب

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر عمر نیازی نے کہا کہ احتساب اگر ہونا ہے تو بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ماضی میں عدالتی فیصلوں پر عمل نہ ہونے سے چیک اینڈ بیلنس کا نظام متاثر ہوا، جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر 9 مئی یا دیگر واقعات میں پی ٹی آئی پر الزامات ہیں تو ان کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور تمام شواہد عوام کے سامنے لائے جائیں۔

 

فیصل واوڈا کے دعوے اور اشارے

پروگرام میں شریک سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ 9 مئی کے مقدمات محض ابتدائی مرحلے میں نہیں بلکہ عملی طور پر ٹرائل کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ مرحلے میں مزید شواہد اور گواہیاں سامنے آ سکتی ہیں، جو معاملے کو مزید وسعت دے سکتی ہیں۔

فیصل واوڈا نے کہا،’’9 مئی کا معاملہ زیرِ سماعت ہے، اور آنے والے دنوں میں بہت سی چیزیں واضح ہو جائیں گی۔‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض بیانات نے عدالتی کردار پر نئی بحث کو جنم دیا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی رائے قانونی فورمز ہی طے کریں گے۔ فیصل واوڈا نے یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ 14 سال کی سزا کے حوالے سے وہ پہلے ہی عندیہ دے چکے تھے۔

 

عمران خان کی صورتحال اور ممکنہ سختی

گفتگو کے آخری حصے میں عمران خان کی جیل میں صورتحال اور پی ٹی آئی پر ممکنہ مزید سختی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ رانا ثنا اللہ خان کے مطابق اگر جیل سے سیاسی سرگرمیوں یا احتجاجی منصوبہ بندی کے شواہد سامنے آتے ہیں تو حکومتی سطح پر سخت فیصلے زیر غور آ سکتے ہیں، جن میں ملاقاتوں پر پابندی یا ممکنہ منتقلی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

 

پروگرام کے اختتام پر یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا کہ جنرل (ر) فیض حمید کو سنائی گئی سزا محض ایک فرد کے احتساب تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات پاکستان کی سیاسی تاریخ، 9 مئی کے مقدمات اور آئندہ ادارہ جاتی اصلاحات تک پھیل سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ فیصلہ مستقبل میں سیاسی مداخلت کے خاتمے اور شفاف احتساب کی بنیاد بن پاتا ہے یا نہیں۔

 

بشکریہ سما نیوز

 

دیگر متعلقہ خبریں